اسلام آباد ۔ 8 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے اقبالیات اور اسلامی تاریخ کو نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستِ مدینہ کے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے آج بھی ہم اپنا مقام حاصل کرسکتے ہیں، علامہ اقبال کا فلسفہ انسان کی سوچ کو آزاد اور تخیل کو بلندی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے …
صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے اقبالیات اور اسلامی تاریخ کو نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے’ وزیراعظم عمران خان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے اقبالیات اور اسلامی تاریخ کو نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستِ مدینہ کے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے آج بھی ہم اپنا مقام حاصل کرسکتے ہیں، علامہ اقبال کا فلسفہ انسان کی سوچ کو آزاد اور تخیل کو بلندی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو نئی نسل کو اسلامی تاریخ اور خصوصاً قومی شاعر علامہ محمد اقبال کے فلسفے اور سوچ سے روشناس کرانے کے لئے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیرتعلیم شفقت محمود، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، ترجمان ندیم افضل چن، معاونین خصوصی افتخار درانی، یوسف بیگ مرزا، وزیر تعلیم پنجاب مراد راس خان، ماہر تعلیم و اقبالیات رضا ہمدانی اور ڈاکٹر رضا گردیزی شریک تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے اقبالیات اور اسلامی تاریخ کو نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ نئی نسل کو اسلام کی تاریخ، مسلمانوں کا عروج اور برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے سب سے بڑے مفکر علامہ اقبال کی سوچ سے روشناس کرایا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ علامہ اقبال کا فلسفہ انسان کی سوچ کو آزاد اور تخیل کو بلندی فراہم کرتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ کے اصول آج بھی اسی طرح مسلم ہیں جس طرح اسلام کے ابتدائی دور میں انکی اہمیت مسلم تھی اور جن پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں نے انتہائی قلیل عرصے میں دنیا کی امامت سنبھال لی۔ وزیرِ اعظم نے کہاکہ ریاستِ مدینہ کے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے آج بھی ہم اپنا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اخلاقیات کا درس دیتا ہے، معاشی و سماجی تنزلی سے پہلے اخلاقی تباہی واقع ہوتی ہے، کرپشن اخلاقی تباہی کا مظہر ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ عوام الناس کی تاریخ اور حقائق سے نا آشنائی مفاد پرست عناصر کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ تاریخ اور حقائق کو مسخ کرتے ہوئے اپنے مفادات کے لئے استعمال کریں۔ وزیرِ اعظم نے کہاکہ جس طرح بعض عناصر قبائلی علاقوں کے عوام کو گذشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے پیش آنے والے مسائل کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں اسی طرح بعض سیاست دانوں نے اسلام کو اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لئے استعمال کیا ہے۔








