اسلام آباد ۔ 18 فروری (اے پی پی) سعودی عرب کی طرف سے پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان اور معیشت، سکیورٹی و توانائی کے کلیدی شعبوں پر محیط پاک۔سعودی سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے باضابطہ آغاز کے تناظر میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ سے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت ملی اور باہمی برادرانہ تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ …
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان اور پاک سعودی عرب معاہدوں کی جائزہ رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 فروری (اے پی پی) سعودی عرب کی طرف سے پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان اور معیشت، سکیورٹی و توانائی کے کلیدی شعبوں پر محیط پاک۔سعودی سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے باضابطہ آغاز کے تناظر میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ سے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت ملی اور باہمی برادرانہ تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ سعودی ولی شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کا دو روزہ نہایت کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد روانہ ہوئے تو وفاقی دارالحکومت آمد پر فقید المثال استقبال اور شاندار مہمان نوازی کے بعد نور خان ایئر بیس سے شایان شان انداز میں الوداع بھی کیا گیا۔ ولی عہد کی آمد پر وزیراعظم عمران خان نے ایئرپورٹ سے ایوان وزیراعظم تک گاڑی خود ڈرائیو کی تھی اور ان کی واپس روانگی پر بھی انہوں نے ایوان صدر سے نور خان ایئر بیس تک گاڑی خود چلائی جس سے دونوں دوست ممالک کے درمیان خصوصی روابط اور گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی ہوتی ہے۔ ون ٹو ون ملاقات کے بعد وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کی مشترکہ صدارت میں سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے افتتاحی اجلاس میں مخصوص شعبہ جات میں تعاون کا فریم ورک وضع کرنے اور متعلقہ وزراءکو سفارشات پیش کرنے کیلئے وزارتی اور سینئر حکام کی سطحوں پر سٹیئرنگ کمیٹی اور جوائنٹ ورکنگ گروپس تشکیل دیئے گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کے اعزاز میں ایوان وزیراعظم میں خصوصی عشائیہ کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب ہمارا عظیم دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا اور بہترین دوست ثابت ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم سی پیک کے تحت دنیا کی بڑی مارکیٹ چین سے منسلک ہو رہے ہیں اور میں سعودی عرب کو اس میں شراکت داری کی دعوت دیتا ہوں۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان برادر اور دوست ملک ہیں جو مشکل حالات میں ہمیشہ ساتھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلہ میں سعودی عرب اور پاکستان نے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کئے ہیں۔ طویل پائیدار اقتصادی روابط پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کی جانب سے اعلان کردہ خطیر سرمایہ کاری، متعدد اہم ترقیاتی منصوبہ جات کو تیزی سے آگے بڑھانے میں معاون ہو گی۔ دورہ کے دوران پاکستان اور سعودی عرب نے توانائی، پیٹرو کیمیکل، بجلی، معدنیاتی وسائل اور کھیلوں کے شعبوں میں مفاہمت کی سات یادداشتوں پر دستخط کرنے کے علاوہ سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے تحت 10 مشترکہ ورکنگ گروپس پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کی روانگی کے موقع پر نورخان ایئربیس پر ذرائع ابلاغ کو اپنے بیان میں کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ہمارے تعلقات دیگر شعبوں میں فروغ پذیر ہو رہے ہیں اور یہ ابھی شروعات ہیں۔ ولی عہد نے بھی وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان میں امید محسوس کرتے ہیں اور ہم پاکستان کے مستقبل پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس دن کے منتظر ہیں جب پاکستان اپنی وسیع تر صلاحیت کی بناءپر خطہ میں ایک بڑی معیشت میں تبدیل ہو گا۔ اپنی روانگی سے قبل ولی عہد نے کہا کہ 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پہلا مرحلہ ہے جو آنے والے برسوں میں مزید پھلے پھولے گی اور دونوں ممالک کیلئے فائدہ مند ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ابھی محض آغاز ہے۔ دورہ کے دوران ایک اہم پیشرفت سعودی جیلوں میں قید 2107 پاکستانیوں کی رہائی کا اعلان ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ کے دوران پاکستانی قیدیوں کی رہائی کی خصوصی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ میرے دل کے بہت قریب ہیں جو اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر جاتے ہیں اور کئی برسوں تک اپنے خاندانوں سے مل نہیں پاتے۔ دریں اثناءوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ چند گھنٹوں کے اندر سعودی حکومت نے تین ہزار میں سے 2107 قیدیوں کی رہائی کا حکم دےدیا جبکہ بقیہ کیسز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عشائیہ سے خطاب میں کہا کہ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں، ان کے یہ کلمات سعودی سلطنت میں کام کرنے والے 25 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کیلئے نہایت اطمینان کا باعث تصور کئے جاتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کی جیلوں میں قید 2107 پاکستانیوں کی رہائی کے اعلان پر ولی عہد کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے اس اقدام پر ان کے شکر گزار ہیں کیونکہ جن لوگوں کی رہائی کے احکامات دیئے گئے ہیں ان میں سے بیشتر مزدور ہیں، یہاں پر ان کے خاندان ہیں، بدقسمتی سے ہم انہیں یہاں روزگار مہیا نہیں کر سکے اس لئے وہ مزدوری کیلئے ملک سے باہر جاتے ہیں۔ دریں اثناءدورے کے اختتام پر دفتر خارجہ کی طرف سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور دونوں ممالک کے عوام اور تاجروں کے مابین رابطوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں تمام دستیاب راستے اختیار کرنے پر اتفاق کیا۔ مشترکہ کمیشن برائے تجارت و کاروبار جو اب سعودی پاکستان سپریم کوآرڈینیشن کونسل کا حصہ ہے، کو مخصوص شعبوں اور مصنوعات کے حوالے سے دوطرفہ تجارت میں سہولت فراہم کرے گا۔ دونوں ممالک نے تجارت کو فروغ دینے، نمائشوں و دیگر ایونٹس میں شرکت کرنے، تاجروں کے اجلاسوں کا خیرمقدم کرنے اور دونوں ممالک میں مضبوط اقتصادی شراکت داری کے لئے نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی کرنے سے متعلق اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ دورے کی اہم پیش رفت پاکستانیوں کے لئے ویزہ فیس میں کمی کا اعلان ہے جبکہ دونوں رہنماﺅں نے سعودی عرب اور پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے پائے جانے والے وسیع مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سعودیہ کی جانب سے کرتارپور کوریڈور کھولنے کے بارے میں اقدام سمیت بھارت کو وزیراعظم عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش کی تعریف کی گئی۔ بیان میں گہا گیا کہ دونوں اطراف نے اس بات پر زور دیا کہ خطہ میں امن و استحکام کو یقینی بنانے اور تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے بات چیت واحد راستہ ہے۔ دونوں اطراف نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پرزور مذمت کی۔ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جموں و کشمیر کے تنازعہ کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کیا۔ سعودی ولی نے ایوان صدر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے بھی ملاقات کی۔ انہیں ایوان صدر میں منعقدہ تقریب تقسیم اعزاز میں پاک۔سعودی دوطرفہ تعلقات کے مزید استحکام کیلئے ان کی کوششوں کے اعتراف میں پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ”نشان پاکستان“ بھی عطاءکیا گیا۔ صدر مملکت نے سعودی ولی عہد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔








