مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاﺅن ، 200سے زائدگرفتار مشترکہ حریت قیادت کی طرف سے کل مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر ۔ 23 فروری (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس اور فوجیوں نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاﺅن شروع کرکے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اور امیر جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض سمیت 200سے زائد حریت پسندوں کو گرفتار کرلیا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے سرینگر میں محمد یاسین ملک کے گھر پر چھاپہ مارکر انہیں گرفتارکرکے کوٹھی باغ …

سری نگر ۔ 23 فروری (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس اور فوجیوں نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاﺅن شروع کرکے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اور امیر جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض سمیت 200سے زائد حریت پسندوں کو گرفتار کرلیا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے سرینگر میں محمد یاسین ملک کے گھر پر چھاپہ مارکر انہیں گرفتارکرکے کوٹھی باغ پولیس سٹیشن میں نظربند کردیا۔بھارتی فوجیوں اور پولیس نے مقبوضہ علاقے میں جماعت اسلامی کے متعدد رہنماﺅں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارکر انہیں گرفتارکیا ہے ۔ گرفتاریوں اوربھارتی فوجیوں کے ہاتھوں نوجوانوںکی شہادت پر آج سرینگر کے مختلف علاقوں اور بانڈی پورہ قصبے میں مکمل ہڑتال کی گئی۔
مشترکہ حریت قیادت نے آج سرینگر میں جاری ایک بیان میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، چھاپوں ، قتل و غارت اوربھارتی آئین کی دفعہ 35A کومنسوخ کرنے کی بھارت کی کوششوں کے خلاف کل مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی قیادت کے غیر حقیقت پسندانہ رویے کی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں قتل وغارت اور تباہی جاری رہی ہے۔ قابض انتظامیہ نے غیر قانونی طورپر نظربند ایک نوجوان مزمل گنائی پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ نافذکرکے اس کو جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں نظربند کردیا ہے۔بھارت میں کشمیریوں پر قاتلانہ حملے مسلسل جاری ہیں اورہندو انتہا پسندوں نے نئی دہلی میں مزید تین کشمیریوں پر حملہ کیا جبکہ پونے میں ایک کشمیری صحافی کو تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ بھارت میں کشمیریوں پر حملوں کے خلاف آج لالچوک اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ دہلی کی ایک عدالت نے نئی دہلی کی تہاڑجیل میں غیر قانونی طورپر نظربند شبیر احمد شاہ کی درخواست ضمانت کی سماعت 2اپریل 2019تک ملتوی کردی ہے۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر بریلی کی پولیس نے بھارتی فوج کے حوالے سے قابل اعتراض بیانات پر تین کشمیری طالبات ڈاکٹر افق، ڈاکٹر شامیہ ارشاد اورڈاکٹر حمیرہ فیاض خان خاشی کے خلاف جھوٹا کیس درج کیا ہے۔ دریں اثناءبھارت نے ہنگامی طورپر پیراملٹری فورسز کی مزید 100کمپنیوں کو بذریعہ ہوائی جہاز سرینگر پہنچاکرمقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں تعینات کردیا ہے تاکہ کشمیریوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے۔کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے اسلام آباد کے دفتر میں منعقدہ ایک سیمینار کے مقررین نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں خواتین کی بے حرمتی اورعصمت دری کا سنجیدہ نوٹس لے۔ بھارتی فوجیوں نے 23فروری1991ءکی رات کو ضلع کپوارہ کے علاقے کنن پوشپورہ میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران ایک سو کے قریب خواتین کی عصمت دری کی تھی۔ برسلز میں ارکان یورپی پارلیمنٹ سمیت ایک گول میز کانفرنس کے شرکاءاس وقت ششدر رہ گئے جب دو متاثرین شمیم شال اور عبدالطیف بٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے شواہد پیش کئے ۔ گول میز کانفرنس کا اہتمام یورپی یونین اورساﺅتھ ایشیا سینٹر فار پیس اینڈ ہیومن رائٹس نے متاثرین کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ثبوت پیش کرنے کے لیے کیا تھا جس طرح اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ذکرکیا گیاتھا۔ اس موقع پر یورپ میں کشمیری نوجوانوں کا نیٹ ورک کے نام سے ایک تنظیم کااعلان بھی کیایا ۔

مشترکہ حریت قیادت نے آج سرینگر میں جاری ایک بیان میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، چھاپوں ، قتل و غارت اوربھارتی آئین کی دفعہ 35A کومنسوخ کرنے کی بھارت کی کوششوں کے خلاف کل مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی قیادت کے غیر حقیقت پسندانہ رویے کی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں قتل وغارت اور تباہی جاری رہی ہے۔ قابض انتظامیہ نے غیر قانونی طورپر نظربند ایک نوجوان مزمل گنائی پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ نافذکرکے اس کو جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں نظربند کردیا ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply