دوران حراست اموات سے متعلق بل تیار ہے جو جلد پارلیمنیٹ میں لایا جائیگا، وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری

اسلام آباد ۔ 5 مارچ (اے پی پی) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پروفیسر ڈاکٹر عمار علی جان سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت واپس لینے اور ارمان لونی کیس میں ایف آئی آر درج کرنے اور متعلقہ پولیس افسران کے خلاف انکوائری کی سفارش کی ہے جبکہ وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ دوران حراست اموات سے متعلق …

اسلام آباد ۔ 5 مارچ (اے پی پی) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پروفیسر ڈاکٹر عمار علی جان سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت واپس لینے اور ارمان لونی کیس میں ایف آئی آر درج کرنے اور متعلقہ پولیس افسران کے خلاف انکوائری کی سفارش کی ہے جبکہ وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ دوران حراست اموات سے متعلق بل تیار ہے جو جلد پارلیمنیٹ میں لایا جائیگا۔ کمیٹی کا اجلاس چےئرمین کمیٹی سینٹر مصطفی نواز کھوکھر کی زیر صدارت ادارہ برائے پارلیمانی سروسز کے کانفرنس حال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن ابراہیم ارمان لونی کی احتجاج کے دوران ہلاکت، صدر گڈانی شپ بریکرز بابو کریم جان کی پولیس حراست کے دوران ہلاکت، پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عمار علی جان کی گرفتاری کے معاملات کے علاوہ پی ٹی وی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ ڈی آئی جی پولیس ژوب اورہوم سیکرٹری بلوچستان نے فنکشنل کمیٹی کو ابراہیم ارمان لونی کی احتجاج کے دوران ہلاکت پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لورالائی میں ایک ماہ میں دہشتگردی کے پانچ واقعات ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہاں دفعہ 144نافذ کی گئی تھی۔دھرنے کے دوران پی ٹی ایم کے ایک لیڈر کو گرفتار کرنے لگے تو احتجاجیوں نے روک لیا، ا±ن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، ابراہیم ارمان لونی کو اس دوران مرگی اور دل کا دورہ پڑا جس سے ان کی ہلاکت ہو گئی، ابتدائی پوسٹ مارٹم لورالائی سے، بعد میں دوسری رپورٹ کوئٹہ سے کرائی گئی اور کچھ اعضا پنجاب لیبارٹری کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ ابراہیم ارمان لونی کی ہمشیرہ نے کمیٹی کو بتایا کہ میرے بھائی پر تشد د کیا گیا، اسے ہسپتال لے جانے لگے تو پولیس کی گاڑی کی رکاوٹ کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔

Leave a Reply