راولپنڈی ۔ 07 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام سے ہی معاشی ترقی ممکن ہے ، معاشی سفارتکاری پر مبنی پالیسی کے تحت ملک کو اقتصادی لحاظ سے مضبوط بنایا جائے گا، تاجر برادری کے ساتھ رابطوں میں اضافہ کریں گے تاکہ نئے آئیڈیاز سامنے آ سکیں ،سیاحت کے شعبے کی ترقی کے لیے ضروری ہے …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا راولپنڈی چیمبر کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
راولپنڈی ۔ 07 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام سے ہی معاشی ترقی ممکن ہے ، معاشی سفارتکاری پر مبنی پالیسی کے تحت ملک کو اقتصادی لحاظ سے مضبوط بنایا جائے گا، تاجر برادری کے ساتھ رابطوں میں اضافہ کریں گے تاکہ نئے آئیڈیاز سامنے آ سکیں ،سیاحت کے شعبے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اکنامک ڈپلومیسی کو فروغ دیا جائے، پاکستان گندھارا اور بدھ مت تہذیب کا ورثہ رکھتا ہے، ضرورت اس ا مر کی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں۔ راولپنڈی چیمبر کے زیر اہتمام چیمبرز صدور کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے۔آر سی سی آئی کے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام گیارہویں آل پاکستان چیمبرز صدور کانفرنس کے دوسرے سیشن سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کا دورہ کامیاب رہا۔ سی پیک میں بلین ڈالرز کی سعودی سرمایہ کاری متوقع ہے ۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد رواں ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے ان کے ہمراہ ایک بڑا تجارتی وفد بھی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن کا خواہاں ہے ۔ خطے میں کشیدگی ہر گز نہیں چاہتے۔ تاہم اگربھارت نے جارحیت کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں ورثے میں تباہ حال معشیت ملی، وزارت خزانہ نے کئی اقدامات کیے ہیں ۔ تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایسی پالیسیاں لائیں گے جن سے برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ زراعت اور مینو فیکچرنگ شعبے کو ترقی دی جائے گی۔ اس سے پہلے صدر چیمبر ملک شاہد سلیم نے اپنے خطاب میں حالیہ کشیدگی پر وزارت خارجہ کی جانب سے موثر سفارت کاری کو سراہا اور یقین دلایا کہ تاجر برادری حکومت پاکستان اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ چالیس سے زائد صدور اور بیس سے زائد سفراءکی صدور کانفرنس میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ سٹیک ہولڈرز امن اور معاشی ترقی کے لیے سنجیدہ ہیں۔ دو روزہ کانفرنس میںاسلام آباد، لاہور، کراچی، سرگودھا، مردان ، چکوال اور ویمن چیمبرز سمیت پچاس سے زائد صدر اور نمائندے شریک ہیں۔








