اسلام آباد ۔ یکم اگست (اے پی پی) آڈیٹر جنرل آف پا کستان رانا اسد امین کی زیر صدارت نئے تشکیل شدہ پالیسی بورڈ کا پہلا اجلاس یکم اگست 2016ءکو آڈٹ ہاﺅس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ بورڈ کے اجلاس میں اکاﺅنٹنگ کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سمیت شراکت دار اداروں نے شر کت کی جن میں سرکاری محکموں کے سربراہان ایڈیشنل سیکرٹری …
آڈیٹر جنرل رانا اسد امین کی زیر صدارت نئے تشکیل شدہ پالیسی بورڈ کا پہلا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم اگست (اے پی پی) آڈیٹر جنرل آف پا کستان رانا اسد امین کی زیر صدارت نئے تشکیل شدہ پالیسی بورڈ کا پہلا اجلاس یکم اگست 2016ءکو آڈٹ ہاﺅس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ بورڈ کے اجلاس میں اکاﺅنٹنگ کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سمیت شراکت دار اداروں نے شر کت کی جن میں سرکاری محکموں کے سربراہان ایڈیشنل سیکرٹری فنانس ڈویژن، کنٹرولر جنرل آف اکاﺅنٹس، ایف بی آر، سٹیٹ بینک آف پا کستان، پلاننگ کمیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے علاوہ ایڈیشنل آڈیٹرز جنرل اور ڈپٹی آڈیٹرز جنرل جو بلحاظ عہدہ بورڈ کے ممبر ہیں، نے شر کت کی۔ اجلاس میں آڈیٹر جنر ل آف پاکستان نے بتایا کے 2016-2017ءکے پہلے سات ماہ کے دوران آڈٹ کے ذریعے 56 ارب روپے کے وصولیاں کی گئیں جبکہ اس پر آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے صرف دو ارب روپے خرچ کئے جس کا تناسب ایک روپیہ خرچ کے بدلے اٹھائیس روپے کی وصولی بنتا ہے۔ آڈیٹر جنرل رانا اسد امین نے جو پالیسی بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں، نے مو جودہ انتظامیہ کی تعریف کر تے ہوئے آڈٹ کی طر ف سے شفافیت اور احتساب کےلئے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا اور یقین دہانی کر ائی کہ باصلاحیت تجربہ کار اور اچھی شہرت کے حامل افسران کی اہم عہدوں پر تقریا ں کی گیئں جبکہ ماتحت عملے کی تقرری میں بھی اس بات کا خاص خیال رکھا گیا۔








