دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 15 مارچ (اے پی پی) دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ ہم کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان سمیت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس واقعے کی بھرپور مذمت کر چکے ہیں، ہمیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں چار پاکستانی گولیاں لگنے سے …

اسلام آباد ۔ 15 مارچ (اے پی پی) دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ ہم کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان سمیت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس واقعے کی بھرپور مذمت کر چکے ہیں، ہمیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں چار پاکستانی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں جو ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ پانچ کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں جن کے متعلق ابھی کوئی تفصیل موصول نہیں ہو سکی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”نیوز وائز“ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ ایمبیسی اور نیوزی لینڈ میں موجود ہمارے سفارتخانے کو مقامی حکام کی جانب سے ملنے والی مصدقہ اطلاعات سے قبل زخمیوں اور لاپتہ افراد کے ناموں سے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا اس لیے تمام میڈیا کو بھی چاہیئے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور کسی کا نام بغیر تصدیق کے نہ چلائیں کیونکہ یہ انسانی زندگی کا معاملہ ہے اور بنا تصدیق کسی کا نام میڈیا پر چلانے سے کسی خاندان کو مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں اس لیے بغیر تصدیق کے کوئی خبر چلانے سے گریز کریں اور انتظار کریں، لاپتہ افراد کے ناموں سے متعلق ہمیں جونہی کوئی مصدقہ اطلاعات ملتی ہیں ہم اسے فوراً منظر عام پر لے آئیں گے، پاکستانی ہائی کمیشن ان لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔ کرتارپور کوریڈور کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اس راہداری کو کھولنے کے جس عزم کا اظہار کیا تھا، بہت سی رکاوٹوں کے باوجود ہم عملی طور پر اس کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں، بھارت کے ساتھ ہماری یہ میٹنگ بہت مثبت اور کامیاب رہی ہے، کرتارپور راہداری کے طریقے اور مسودے سے متعلق ہونے والی ہماری پہلی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، ہم تمام تصفیہ طلب معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور شروع دن سے ہی ہماری یہ پوزیشن ہے لیکن اگر کوئی بات چیت نہیں کرنا چاہے گا اور کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا چاہے گا تو اس کا بھی برابر جواب دیا جائے گا جو سب نے گزشتہ ماہ کی 27 تاریخ کو دیکھ بھی لیا ہے، کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق مذاکرات کا عمل جاری ہے، کرتارپور راہداری سے متعلق دوسری ملاقات آئندہ ماہ 2 اپریل کو واہگہ بارڈر پر ہو گی، ہم نے بھارت کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے لیکن وہ واہگہ میں مذاکرات کے لیے اصرار کر رہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسائیہ ممالک کے ساتھ پرامن معاملات اور بہتر تعلقات چاہتا ہے، پاک بھارت پرامن مذاکرات دونوں ممالک کے اشتراک ہی سے ممکن ہیں، وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا تھا جس میں ہمارے وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو مسئلہ کشمیر اور سیاچین پر بات کرنے کی دعوت دی لیکن بھارت کی جانب سے ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔

Leave a Reply