صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا یوم پاکستان کے موقع پر پریڈ سے خطاب

اسلام آباد ۔ 23 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ آج ہم ابھرتی ہوئی معاشی قوت کے ساتھ دفاعی لحاظ سے مضبوط اور پر امن ایٹمی طاقت ہیں، ہم دنیا کے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرتے ہیں،پاکستان ایک حقیقت ہے اور بھارت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا،ہمیں حالیہ تاریخ میں اپنی قومی تاریخ کے سب سے بڑے چیلنج دہشتگردی …

اسلام آباد ۔ 23 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ آج ہم ابھرتی ہوئی معاشی قوت کے ساتھ دفاعی لحاظ سے مضبوط اور پر امن ایٹمی طاقت ہیں، ہم دنیا کے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرتے ہیں،پاکستان ایک حقیقت ہے اور بھارت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا،ہمیں حالیہ تاریخ میں اپنی قومی تاریخ کے سب سے بڑے چیلنج دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑا، خطے کو امن کی ضرورت ہے، جنگ کے بجائے تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی پر توجہ دینی چاہیے، ہماری اصل جنگ غربت اور بیروزگاری کے خلاف ہے، ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جس نے اتنی لمبی لڑائی لڑی، جانی و مالی قربانی دی مگر بے پناہ حوصلے سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا، بلاشبہ افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، اہلیت اور معیار کا کوئی ثانی نہیں، سرحدوں پر وطن کے دفاع کا فریضہ انجام دینے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں، بلاشبہ آپ قوم کا فخر اور وقار ہیں، آپ کی جرات و بہادری اور بہترین حربی صلاحیتوں نے ملک کا ناقابلِ تسخیر بنادیا، آج کی پریڈ پیغام دے رہی ہے کہ ہم پر امن قوم ہیں مگر دفاع سے غافل نہیں۔وہ ہفتہ کو پریڈ گراﺅنڈ میں مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ سے خطاب کر رہے تھے ۔پریڈ کے اعزازی مہمان ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر بن محمد تھے جبکہ وزیراعظم عمران خان ،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات ،بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ،پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی ،پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان ،آزربائیجان کے وزیر دفاع ذاکر حسنوف ،بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر کے علاوہ دوست ممالک کے فوجی دستوں ،مندوبین ،سفارتکاروں ،وفاقی وزراء،اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ عوام کی ایک کثیر تعداد موجود تھی ۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں آزادی جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی اور اس سے بڑھ کر ہمیں اپنے وطن کی حفاظت کی ہمت بخشی۔انہوں نے کہا کہ آج کے روز مسلمانوں نے قرار داد کی صورت میں آزادی کے حصول کا عزم باندھا اور ایسی آزاد ریاست کی جدوجہد شروع کی جہاں معیشت، معاشرت اور سیاست کو دین اسلام کی روشنی میں اتار سکیں اور دنیا کے لیے مثالی ریاست کا نمونہ پیش کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ قوم اس دن کو اس عہد کی تجدید کے ساتھ منارہی ہے کہ ہم قائد و اقبال کے نظریاتی تصور اور اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کل اور مستقبل کی صورت گری کریں گے، پاکستان کو اللہ کی عظیم نعمت تصور کرتے ہوئے اس کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کو یقینی بنائیں گے، پرعزم قوم کے طور پر اقبال اور قائد کے افکار کی تعمیر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے بے شمار قربانیاں دینی پڑتی ہیں، جب پاکستان ہماری پہچان بنا تو ہمیں لامحدود چیلنجز کا سامنا تھا، ہماری زندگیوں میں بہت سے نشیب و فراز آئے اور ہم پر جنگیں مسلط کی گئیں، ہمیں حالیہ تاریخ میں اپنی قومی تاریخ کے سب سے بڑے چیلنج دہشگردی کا سامنا کرنا پڑا، ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جس نے اتنی لمبی لڑائی لڑی، جانی و مالی قربانی دی مگر بے پناہ حوصلے سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہم قوم کے عزم اور افواج پاکستان کی جرات و بہادری کی بدولت نہ صرف سرخرو ہوئے بلکہ امن و قومی تعمیر و ترقی کے راستے پر گامزن ہوئے، آج ہم ابھرتی ہوئی معاشی قوت کے ساتھ دفاعی لحاظ سے مضبوط اور پر امن ایٹمی طاقت ہیں، ہم دنیا کے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ امن کی خواہش کو ہرگز ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان ایک حقیقت ہے اور ہم زندہ و تابندہ آزاد قوم ہیں، بھارت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا، ان کی قیادت کی تنگ نظری ہوگی اگر وہ ہمیں 1947ءکے نظریات اور تصورات کی عینک سے دیکھیں گے، یہ خطے کے امن کے لیے خطرناک ہے، خطے کو امن کی ضرورت ہے، ہمیں جنگ کے بجائے تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی پر توجہ دینی چاہیے، ہماری اصل جنگ غربت اور بیروزگاری کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ذمہ دار قوم ہیں، ماضی سے سبق سیکھ کر مستقبل تعمیر کررہے ہیں، ہم تلخیوں اور نفرتوں کو ختم کرکے خوشحالی کے بیج بونا چاہتے ہیں، ہم جمہوری ملک ہونے کے ناطے لڑائی پر یقین نہیں رکھتے، ہر مسئلے کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، اس ضمن میں بھارت کا رویہ نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ رہا ہے جس کی بدولت خطہ امن کے مسلسل خطرات سے دوچار ہے، پلوامہ حملے کے بعد کی صورتحال اس کی تازہ مثال ہے جس میں بلا ثبوت پاکستان پر الزام لگادیا گیا، دھمکی آمیز پیغامات سے جنگ کی فضا پیدا کی گئی اوربین الاقوامی قوانین کو توڑتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی، اس کا جواب دینا ہمارا فرض ہے، ہماری افواج تیار تھی اور قوم کی دعائیں و حمایت ان کے ساتھ تھی،ہم نے بہترین حکمت عملی سے موثر اور فوری جواب دیا، اس پر پوری قوم اپنی افواج کو زبردست خراج تحسین پیش کرتی ہے، دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر نہ صرف انہوں نے ذمہ داریاں پوری کیں بلکہ اپنی اہلیت اور برتری ثابت کردی۔انہوں نے کہا کہ بلاشبہ افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، اہلیت اور معیار کا کوئی ثانی نہیں، سرحدوں پر وطن کے دفاع کا فریضہ انجام دینے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں، بلاشبہ آپ قوم کا فخر اور وقار ہیں، آپ کی جرات و بہادری اور بہترین حربی صلاحیتوں نے ملک کا ناقابلِ تسخیر بنادیا، آج کی پریڈ پیغام دے رہی ہے کہ ہم پر امن قوم ہیں مگر دفاع سے غافل نہیں۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کوئی شک نہیں دہشت گردی دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطہ ہے لیکن ہم نے طویل جنگ کے بعد اس عفریت کو قابو کرلیا اب اس پر مزید کام کی ضرورت ہے، افغانستان میں امن پاکستان کے لیے ضروری ہے، اس کی خودمختاری، جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، افغانستان کے عوام طویل جنگ سے نجات چاہتے ہیں، ان کی خواہش میں ان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پریڈ میں سعودی عرب، چین، ترکی، آذربائیجان، بحرین اور سری لنکا کی افواج کے نمائندوں کی شرکت نے ہمارے ولولوں کو جلا بخشی، یہ ان ممالک کی پاکستان کے ساتھ دوستی کا بھرپور اظہار ہے جس پر وہاں کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، مہاتیر محمد کی خصوصی آمد پر ان کے مشکور ہیں، قوم معزز مہمانوں کا گرم جوشی سے خیر مقدم کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ سرحدوں پر کشیدہ صورتحال کے باوجود پریڈ کا انعقاد افواج کے بلند حوصلوں کا مظہر ہے، جوانوں اور افسران کے پرعزم چہرے، جدید حربی سامان کی نمائش ملکی سلامتی کی ضمانت ہے، پاکستان محفوظ ہے، ہماری معاشی اور معاشرتی ترقی بہت عرصے سے سکیورٹی حالات کی وجہ سے متاثر رہی، اب پاکستان کو ترقی و کامیابی کے راستے پر لے جانے کا وقت آگیا، ترقی یافتہ ملک شہدا اور غازیوں کے لیے بہترین تحفہ ہوگا۔آخر میں صدرِ پاکستان نے شاندار پریڈ کے انعقاد پر پریڈ کمانڈر، شرکاءاور منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔

مزید خبریں

Leave a Reply