اسلام آباد ۔ 23 مارچ (اے پی پی) ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور باہمی تعلقات کو مستحکم بنانے کے لئے عوامی سطح پر رابطوں اور سیاحت کا فروغ ضروری ہے، سزاﺅں کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کی عفریت سے معاشرے میں اخلاقی اور مذہبی اقدار کو فروغ دے کر نمٹا …
ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کا انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 مارچ (اے پی پی) ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور باہمی تعلقات کو مستحکم بنانے کے لئے عوامی سطح پر رابطوں اور سیاحت کا فروغ ضروری ہے، سزاﺅں کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کی عفریت سے معاشرے میں اخلاقی اور مذہبی اقدار کو فروغ دے کر نمٹا جا سکتا ہے، اسلام امن کا دین ہے وہ قتل، تصادم یا تشدد کی تعلیم نہیں دیتا ۔ اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں مہاتیر محمد، جنہوں نے ہفتہ کو پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کیا، نے کہا کہ وہ اس دورے سے خوش ہیں جس میں انہیں پاکستانی قیادت کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع ملا اور دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کی نشاندہی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ امن اور استحکام دونوں سیاحت کے فروغ کے لئے اہم اقدامات ہیں اور کسی بھی ملک کی ترقی اور معاشی خوشحالی کےلئے یہ بنیاد ہیں۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ ہر سال ملائیشیا میں ایک بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں، ملائیشیا کی آبادی 3کروڑ 20لاکھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قیام کے دوران انہوں نے سکون محسوس کیا ہے، پاکستان میں سیاحت کے فروغ اور صلاحیت کے تمام مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سزاﺅں کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کی عفریت سے معاشرے میں اخلاقی اور مذہبی اقدار کو فروغ دے کر نمٹا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کو بدعنوان نہیں ہونا چاہیے اگر وہ بدعنوان ہوگی تو اس عفریت سے نمٹنا بہت مشکل ہو گا۔ اسلامو فوبیا کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام امن کا دین ہے اور وہ مار دھاڑ، قتل یا تشدد کی تعلیم نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم کیا غلط کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ جنہیں اسلام کا کوئی علم نہیں ہے انہیں میڈیا کے استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنے ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے انڈسٹریلائزیشن کو فروغ دے کر اور مقامی و غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش ماحول بنا کر یہ کامیابی حاصل کی۔ انڈسٹریلائزیشن کے لئے بیرونی سرمایہ کاروں کو مختلف مراعات دی گئیں، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مقامی لوگوں نے غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ کام کر کے تکنیکی مہارت اور سوجھ بوجھ حاصل کی اور پھر اپنی صنعتیں لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ فنی تعلیم، مہارت میں اضافہ اور علم پر مبنی اطلاعات و ٹیکنالوجیز پاکستان سمیت کسی بھی ملک کی صنعتکاری کے لئے بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کی گاڑیاں بنانے والی کمپنی پروٹون کراچی میں پاکستان کی الحاج آٹو موٹیو کمپنی کے ساتھ مل کر کار سازی کا پلانٹ لگا رہی ہے اور آئندہ سال جون میں یہاں پروٹون کی کار تیار ہو گی۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے ملائیشین ہم منصب نے جمعہ کو اسلام آباد میں پاک ملائیشیا سرمایہ کاری کانفرنس کے موقع پر کار اسمبلی پلانٹ کا علامتی سنگ بنیاد رکھا۔








