وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی ملتان میں میڈیا سے بات چیت

ملتان ۔24مارچ(اے پی پی)وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ بلاول بھٹوکالعدم تنظیموں کے حوالے سے اپنی تشویش لکھ کربھجوائیں ،شہبازشریف اورآصف زرداری سے بھی کہاہے کہ وہ آئیں مل بیٹھ کرنیشنل ایکشن پلان کوآگے بڑھاتے ہیں ،آئیں مل بیٹھ کرقومی سلامتی کے مسئلے پربات کریں ۔ان خیالات کااظہار انہوںنے اتوارکے روزملتان میں میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ میں نے بلاول بھٹو کوخط لکھاہے اورانہیں …

ملتان ۔24مارچ(اے پی پی)وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ بلاول بھٹوکالعدم تنظیموں کے حوالے سے اپنی تشویش لکھ کربھجوائیں ،شہبازشریف اورآصف زرداری سے بھی کہاہے کہ وہ آئیں مل بیٹھ کرنیشنل ایکشن پلان کوآگے بڑھاتے ہیں ،آئیں مل بیٹھ کرقومی سلامتی کے مسئلے پربات کریں ۔ان خیالات کااظہار انہوںنے اتوارکے روزملتان میں میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ میں نے بلاول بھٹو کوخط لکھاہے اورانہیں کہاہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہم نے کیااقدامات کرنے ہیں اس بارے میں آئیں اوربات چیت کریں ۔آپ کوجوتشویش ہے وہ لکھ کربھیجیں لکھ کرنہیں بھیج سکتے توبات کریںجو قوتیں دہشت گردوں کو پناہ دیتی ہیں ہم نے ان کے خلاف کس فریم ورک کے تحت کارروائی کرنی ہے میں اس بارے میں بات چیت کے لئے تیارہوں ۔میں قائدحزب اختلاف کے دفترمیں جاکربھی اس مسئلے پربات چیت کرسکتاہوں ۔بیانات سے مسائل حل نہیں ہوں گے ہمیں متفقہ لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔انہوںنے کہاکہ بھارت سفارت کاری کے ذریعے ہمیں تنہاکرنے کی کوشش کررہاہے ۔وہ ہمیں گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں دھکیلناچاہتاہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان بھی یکسوئی کے ساتھ اقدامات کرے ،پارلیمنٹ کو متفقہ لائحہ عمل اپناناچاہیے ،قومی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ ہم مل بیٹھ کر اقدامات کریںاورمسائل کو حل کریں ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیرخارجہ نے کہا کہ 23 مارچ کوبھارتی وزیراعظم نے مبارکبادکاجوپیغام دیاوہ خوش آئند ہے جوبھارت فروری میںجارحیت کررہاتھااوربم گرارہا تھا وہ اب خیرسگالی اورمبارکباد کے پیغام دے رہا ہے یہ تبدیلی نہیں تواورکیاہے ۔پاکستان کو نہ پہلے ہچکچاہٹ تھی نہ اب ہے۔انہوںنے کہاکہ بھارت میں الیکشن تک تعلقات میں اتارچڑھاﺅآتارہے گا۔ہم سب سمجھدارہیںاورمکاری کوبھی جانتے ہیں۔اگربھارت نے جارحیت کی توہم دفاع کاحق رکھتے ہیں ۔اپنے دورہ چین کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ چین کا دورہ بہت اہمیت کاحامل تھا چین ہمارانمایاں دوست ہے ۔چین کی طرف سے واضح موقف ہے کہ وہ کل بھی پاکستان کے ساتھ تھاآج بھی پاکستان کے ساتھ ہے ۔نیوزی لینڈکے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ وہاں ہم نے اسلام وفوبیاکاجومنظردیکھا وہ بہت افسوسناک تھا۔مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اوراسے براہ راست دکھا کر دنیا بھرمیں خوف طاری کیاگیا۔یہ حملہ وائٹ سپرمیسی قائم کرنے کے لئے کیاگیاتھالیکن اس موقع پرنیوزی لینڈ کی وزیراعظم اورعوام نے جومظاہرہ کیا اس نے صحیح معنوں میں اسلاموفوبیا پھیلانے والوں کوشکست دی۔شاہ محمودقریشی نے کہاکہ اس مسئلے پراسلامی کانفرنس تنظیم کے وزراءخارجہ کے اجلاس میں جواعلامیہ جاری کیاگیاوہ جن 6نکات پرمشتمل تھاان میں سے چارنکات وہ تھے جو میں نے پیش کئے تھے ۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے اگرن لیگ کے ساتھ اتحاد کاسوچاہے تویہ ان کاسیاسی حق ہے چند ماہ پہلے یہ جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بولتی تھیں ۔انہوںنے کہاکہ پیپلزپارٹی کے بہت سے نظریاتی کارکن ن لیگ کے ساتھ نہیں چلناچاہتے ۔ن لیگ کے بہت سے لوگ بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ ملاپ نہیں چاہتے ۔اعتزاز احسن کابیان بھی سامنے آگیاہے کہ پیپلزپارٹی اورن لیگ جب بھی قریب آتے ہیں تونقصان پیپلزپارٹی کاہوتاہے ۔وزیرخارجہ نے کہاکہ ہم میں اتناحوصلہ ہے کہ ہم اپنی اقلیتوں کاتحفظ کرسکیں ۔اگران کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے توہم ا نہیں مکمل تحفظ دیں گے ۔ایک اورسوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ نواز شریف کومکمل طبی سہولتیں دی جارہی ہیں۔میں ان کی صحت یابی کے لئے دعاگوہوں ۔

مزید خبریں

Leave a Reply