اسلام آباد ۔ 25 مارچ (اے پی پی) پاکستان میں 23 سال بعد چائلڈ لیبر کے نئے سروے کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پیر کو ایک تقریب میں سروے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری، وفاقی سیکریٹریز برائے انسانی حقوق، وزارت شماریات اور یونیسف، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور یو کے ایڈ سمیت مختلف معاون اداروں کے …
پاکستان میں 23 سال بعد چائلڈ لیبر کے نئے سروے کا باضابطہ آغاز ، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تقریب میں سروے کا افتتاح کیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 مارچ (اے پی پی) پاکستان میں 23 سال بعد چائلڈ لیبر کے نئے سروے کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پیر کو ایک تقریب میں سروے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری، وفاقی سیکریٹریز برائے انسانی حقوق، وزارت شماریات اور یونیسف، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور یو کے ایڈ سمیت مختلف معاون اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ وفاقی سیکریٹری برائے انسانی حقوق رابعہ جویریہ آغا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرکاءکا خیرمقدم کیا اور ملک میں چائلڈ لیبر کی صورتحال، آبادی کے مسائل کے ساتھ ساتھ بچوں کی صحت و تعلیم جیسے چیلنجز کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے ملک سے چائلڈ لیبر کے خاتمہ کی کوششوں اور اس سلسلے میں عالمی معاہدوں کے تحت ادا کی جانے والی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے سروے کا آغاز بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے نئی شروعات ہیں۔ اس کے نتائج مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی اور اس حوالے سے پالیسی سازی میں مددگار ثابت ہوں گے۔ وفاقی سیکریٹری وزارت شماریات شائستہ سہیل نے پاکستان بیورو برائے شماریات کی جانب سے اختیار کئے جانے والے ڈیٹا جمع کرنے کے طریقہ کار اور اقسام کے بارے میں بتایا اور کہا کہ یہ سروے 1996ءکے بعد موجودہ وقت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چکوال اور مظفر گڑھ میں پائلٹ سروے کیا گیا ہے جس میں نئے طریقے اور ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اس موقع پر یونیسف کی کنٹری ری پریزنٹیٹیو عائدہ گریما نے اپنے خطاب میں کہا کہ چائلڈ لیبر سروے کے اجراءکی تقریب میں صدر پاکستان کی موجودگی اس حوالے سے موجودہ حکومت کے عزم کی عکاس ہے، یہ سروے بہت اہم ہے جس کی بنیاد پر حکومت مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر بہتر پالیسی سازی کر سکے گی اور چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے حوالے سے پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے خلاف ہونے والے استحصال کے خاتمہ کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان کا وژن بہت واضح ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی کنٹری ڈائریکٹر اینگریڈ کرسٹین سین نے اپنے خطاب میں چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لئے عالمی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں ترقیاتی اہداف کے حصول کی جانب پیشرفت تیز کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے شکار بچوں کو محفوظ بنانے اور نئے بچوں کی اس میں شمولیت کو روکنے کے لئے بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لئے موثر پالیسیاں مرتب کر کے ان پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔ اس مقصد کے لئے حکومت پاکستان سمیت تمام شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔ تقریب سے ڈی ایف آئی ڈی آفس کی سربراہ جونا ریڈ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر کے بارے میں سروے کا آغاز خوش آئند ہے اور یہ پاکستان کی حکومت کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ نیا سروے نئے حالات اور ضروریات کے پیش نظر بہتر منصوبہ بندی کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں میں تعاون جاری رکھیں گے۔








