وزیراعظم عمران خان کی وزیراعظم آفس میں صحافیوں سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 25 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے آج اختیار کی جانے والی خارجہ پالیسی دو دہائیوں کی بہترین خارجہ پالیسی ہے اور امریکہ نے اب افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا ہے۔ پیر کو وزیراعظم آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برسراقتدار آنے کے بعد موجودہ حکومت …

اسلام آباد ۔ 25 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے آج اختیار کی جانے والی خارجہ پالیسی دو دہائیوں کی بہترین خارجہ پالیسی ہے اور امریکہ نے اب افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا ہے۔ پیر کو وزیراعظم آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برسراقتدار آنے کے بعد موجودہ حکومت نے تمام ممالک بالخصوص خطے کے ملکوں کے ساتھ اچھے اور مضبوط تعلقات استوار کرنے کی پیروی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، ملائیشیا اور کئی دیگر ممالک کے ساتھ مثالی تعلقات استوار ہیں اور وہ آنے والے دنوں میں ان تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے خواہاں ہے تاہم وزیراعظم نے بھارت میں آئندہ عام انتخابات کی آمد کے موقع پر وزیراعظم نریندرا مودی کی سبکدوش ہونے والی حکومت کی طرف سے پیدا کردہ جنگی جنون کی طرف نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خدشات ہیں، پاکستان کو بھارت میں انتخابی عمل مکمل ہونے تک مکمل طور پر چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے اچھے تعلقات ہیں اور یہ کہ وہ پاکستانی قیادت سے ملاقات کریں گے، کے بارے میں سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان اس بیان کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کو کامیاب بنانے کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ وہ خطے میں امن کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں اطراف کے درمیان بات چیت اس صورت میں زیادہ مفید ہوگی جب افغانستان میں ایک عبوری حکومت ہو اور مذاکرات غیر جانبدار ماحول میں ہوں۔

مزید خبریں

Leave a Reply