وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 26 مارچ(اے پی پی)وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ وزارت انسانی حقوق تمام افراد کو بلاامتیاز انسانی حقوق کی فراہمی کےلئے تمام متعلقہ بالخصوص اقوام متحدہ کے اداروں اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر جامع اقدامات اٹھا رہی ہے، انسانی حقوق سے متعلق ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں یو این ڈی پی وزارت …

اسلام آباد ۔ 26 مارچ(اے پی پی)وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ وزارت انسانی حقوق تمام افراد کو بلاامتیاز انسانی حقوق کی فراہمی کےلئے تمام متعلقہ بالخصوص اقوام متحدہ کے اداروں اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر جامع اقدامات اٹھا رہی ہے، انسانی حقوق سے متعلق ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں یو این ڈی پی وزارت انسانی حقوق کے ساتھ تعاون کر رہی ہے، جن شعبوں میں ترجیحی بنیادوں پر قانون سازی کی ضرورت ہے وہاں نئی قانون سازی کی جا رہی ہے جبکہ پہلے سے موجود قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اوران قوانین کے حوالہ سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کےلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں وزارت انسانی حقوق میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں غیر مسلموں اور اقلیتوں کو ان کے اپنے قوانین فراہم کئے جا رہے ہیں اور اس ضمن میں ہند و میرج ایکٹ پر عملدرآمد کیا چکا ہے اور مسیحی برادری کےلئے طلاق کا بل منظوری کےلئے وزارت قانون کو بھیجا جا چکا ہے،ہم اقلیتوں کے ساتھ ساتھ بچوں اور عورتوں کو بھی ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں اس ضمن میں بچوں پر تشدد کی روک تھام اور زینب الرٹ بل کیبنٹ نے پاس کر لیا ہے اور جلد ہی پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں پر جنسی اور گھریلو تشدد کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کےلئے وزارت انسانی حقوق چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ سمیت چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ پورنوگرافی اور بچوں پر جنسی تشد د کے واقعات کی روک تھام کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کےلئے دیگر قوانین پر بھی کام ہو رہا ہے جس سے گھروں میں کام کرنے والے بچوں پر تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ کم عمر بچوں کیلئے جسٹس سسٹم پر بھی کام کیا رہا ہے اور اس ضمن میں خیبرپختوا میں جووینائل جسٹس کورٹ بنائی چا چکی ہے اور دیگر صوبوں میں بھی اسی طرز پر کورٹس بنائی جائیں گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں قوانین موجود ہیں لیکن اصل مسئلہ ان قوانین پر موثر عملدرآمد کاہے، یہی وجہ ہے کہ وزارت انسانی حقوق نئے قوانین کو بنانے کے ساتھ ساتھ موجودہ قوانین پر عمل درآمد کرنے کےلئے بھی یکساں کوشاں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق نہ صرف اقلیتوں، بچوں اورخواتین کے حقوق کےلئے کوششیں کر رہی ہے بلکہ خواجہ سراو¿ں کو بھی معاشر ے میں ایک باعزت مقام دلانے کےلئے اقدامات اٹھارہی ہے۔ اسلام آباد میں خواجہ سراو¿ں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کےلئے ایک الگ وارڈ مختص کیا گیا ہے اور باقی صوبوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بھی خواجہ سراو¿ں کو اعلی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے الگ وارڈز مختص کریں۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بیرون ممالک میں قید پاکستانی قیدیوں کی رہائی کو ہر ممکن بنانے کیلئے اور ان کو قانونی امدادا فراہم کرنے کیلئے موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس ضمن میں وزارت خارجہ اور وزات داخلہ سے بیرون ملک قید پاکستانیوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت انسانی حقوق بیرونی ممالک میں قید پاکستانی قیدیوں کے حقوق کو یقینی بنانے کےلئے اقدامات اٹھارہی ہے جس کے تحت قیدیوں کو نہ صرف قانونی مدد فراہم کی جائے گی بلکہ ان کی بازیابی کےلئے بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالہ سے وزارت انسانی حقوق آگاہی مہم چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مفت ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے جہاں نہ صرف بچوں پر تشدد کے واقعات کی رپورٹ کی جاسکتی ہے بلکہ متاثرین کو ہر ممکن اخلاقی اور قانونی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ یورپ میں مقیم پاکستانی تاکین وطن اور مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کےلئے بین الاقوامی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت ، ظلم و ستم اورا انسانی حقوق کی پامالیوں کی سخت مذمت کی اور کہا مقبوضہ کشمیر میں خواتین اور بچوں پر ظلم و ستم کیا جا رہا ہے جو کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے انہوں نے اقوام عالم پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ انہوں نے جی ایس پی پلس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزارت انسانی حقوق ملک بھر سے چائلڈ لیبر کے خاتمے اورمزدوورں کے حقوق کے تحفظ کےلئے کوشاں ہے اوراس ضمن میں ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام افراد کو بلاامتیاز انسانی حقوق کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

مزید خبریں

Leave a Reply