اسلام آباد ۔ 28 مارچ (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے فراہم کردہ شواہد کے مطابق پلوامہ حملے سے متعلق پاکستان کا تعلق ثابت نہیں ہوسکا،خلاءمیں بھارتی تجربہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے جس سے قوموں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں،ہندو لڑکیوں سے متعلق بھارتی وزیر خارجہ کا بیان قابل مذمت ہے۔جمعرات کو ہفتہ وار …
بھارت کیساتھ کشیدگی کا ماحول ابھی ختم نہیں ہوا، بھارت کے فراہم کردہ شواہد کے مطابق پلوامہ حملے سے متعلق پاکستان کا تعلق ثابت نہیں ہوسکا، دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 مارچ (اے پی پی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے فراہم کردہ شواہد کے مطابق پلوامہ حملے سے متعلق پاکستان کا تعلق ثابت نہیں ہوسکا،خلاءمیں بھارتی تجربہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے جس سے قوموں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں،ہندو لڑکیوں سے متعلق بھارتی وزیر خارجہ کا بیان قابل مذمت ہے۔جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پلوامہ حملے سے متعلق بھارت کی جانب سے فراہم معلومات کا جائزہ لینے کیلئے ایف آئی اے کی 10رکنی ٹیم تشکیل دی گئی تاہم مکمل تحقیقات کے بعد فراہم کردہ شواہد کے مطابق پلوامہ حملے سے پاکستان کا تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے مزید ٹھوس معلومات اور شواہد مانگے ہیں ،اگر نئی دہلی قابل عمل معلومات اور شواہد فراہم کرے تو پاکستان بھر پور کارروائی کریگا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی پلوامہ حملے سے مسعود اظہر کا تعلق بھی ثابت نہیںکرسکا ۔ترجمان نے کہا کہ پلوامہ حملے کی تحقیقات سے غیر ملکی سفارتکاروں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ خلاءمیں بھارتی تجربہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے جس سے قوموں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔امریکہ ،برطانیہ اور فرانس کی جانب سے مسعود اظہر کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کیلئے سلامتی کونسل میں قرار داد لانے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کیونکہ سینکشن کمیٹی اس کیلئے مناسب فورم ہے اور یہ معاملہ پہلے ہی کمیٹی میں زیر غور ہے اور سلامتی کونسل میں قرارداد سے کمیٹی کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ہم مشاورت کے زریعے کمیٹی میں اس معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت کیساتھ کشیدگی کا ماحول ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔پاکستان مسلسل بھارت کو تمام تصفیہ طلب معاملات مذاکرات سے حل کرنیکی پیشکش کر رہا ہے لیکن بھارت نے کبھی بھی مثبت جواب نہیں دیا۔سندھ میں دو ہندو لڑکیوں کے حوالے سے بھارتی وزیر خارجہ کے ریمارکس سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے اسے بھارتی انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا اورکہا کہ یہ بھارتی حکومت ہی ہے جس نے گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام اور خواتین کی آبروریزی کی اجازت دی تھی جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں کو تشدد اور مظالم کا نشانہ اور مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنایا جارہا ہے۔ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے اور بھارت کو بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکیں۔ ترجمان نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت سے متعلق وزیر اعظم عمران کے بیان کو غلط انداز میںلیا گیا۔پاکستان افغانستان میں پائیدار امن و استحکام چاہتا ہے۔








