ملک سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے،وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت

اسلام آباد ۔ 28 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ افرادی قوت کو عالمی معیار کی پیشہ ورانہ و تکنیکی تربیت فراہم کی جائے۔ وہ جمعرات کو نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں سکلز ٹیسٹنگ سینٹر کا افتتاح کر رہے تھے۔ نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ملک کی …

اسلام آباد ۔ 28 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ افرادی قوت کو عالمی معیار کی پیشہ ورانہ و تکنیکی تربیت فراہم کی جائے۔ وہ جمعرات کو نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں سکلز ٹیسٹنگ سینٹر کا افتتاح کر رہے تھے۔ نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ملک کی پہلی یونیورسٹی ہے جو انڈسٹری کی ضروریات کو پورا کرنے کے مقاصد کے لئے قائم کی گئی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے فیکلٹی اور طلباءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے افرادی قوت کو عالمی معیار کی پیشہ ورانہ و تکنیکی تربیت دینا ہوگی تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 30 لاکھ پاکستانی جاب مارکیٹ میں آ رہے ہیں، ان کی اکثریت ہنر یافتہ نہیں ہوتی۔ وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ سکلز ٹیسٹنگ سینٹر ہنر مند افرادی قوت کی تیاری اور ان کی مہارتوں کی ٹیسٹنگ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے نئی طرز کی یونیورسٹی اور اس کے جدید طرز تعلیم کو سراہتے ہوئے اس کو ملک کی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کو قائم کرنے میں پاکستان آرمی اور ایف ڈبلیو او کے کردار کی بھی تعریف کی۔ قبل ازیں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود یونیورسٹی پہنچے تو وائس چانسلر جنرل (ر) خالد اصغر نے ان کا استقبال کیا اور یونیورسٹی کے نصاب اور شعبہ جات پر بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر کو یونیورسٹی کا دورہ کرایا گیا۔ وفاقی وزیر نے یونیورسٹی کی لیبارٹریوں اور نصاب کی سرگرمیوں کو سراہا۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار بریگیڈیئر ڈاکٹر سید عدنان قاسم نے ”اے پی پی“ کو بتایا کہ یونیورسٹی نے گذشتہ سال اکتوبر میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا، پہلے بیج میں 150 طلباءپانچ مختلف شعبوں میں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کی پانچ بہترین یونیورسٹیوں کی طرز پر نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے قیام کا مقصد مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی انڈسٹری کی ضروریات کو پورا کرنا اور ان کے لئے ٹیکنالوجی اور ہنر مند افرادی قوت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں یونیورسٹیوں کے شعبہ جات کی تعداد 47 تک بڑھائے جانے کا منصوبہ ہے جبکہ اس میں 13 سینٹر آف ایکسیلنس قائم کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر سید عدنان قاسم نے بتایا کہ نیشنل سکلز ڈویلپمنٹ ڈائریکٹوریٹ افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ پیشہ ورانہ و تکنیکی تربیت کے نصاب کو انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق تیار کرے گا اور مختلف تربیتی سینٹرز میں تیار ہونے والی افرادی قوت کی مہارتوں کی ٹیسٹنگ کے بعد انہیں سرٹیفیکیٹ دینے کی سفارش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سینٹر کے قیام سے پاکستانی افرادی قوت کی بیرون ملک مانگ میں اضافہ ہوگا اور وہ بہتر معاوضوں پر کام کرے گی۔

مزید خبریں

Leave a Reply