لاہور۔29مارچ(اے پی پی ) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ نویں این ایف سی ایوارڈ کا پراسیس رواں سال 31 دسمبر تک مکمل کرلیا جائے، آئندہ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں وفاق اور صوبوں کے مابین ٹیکس کے حوالے سے ربط میں بہتری لائی جائیگی۔ وہ جمعہ کے روز سول سیکرٹریٹ لاہور میں نویں این ایف سی ایوارڈ کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس …
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی این ایف سی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
لاہور۔29مارچ(اے پی پی ) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ نویں این ایف سی ایوارڈ کا پراسیس رواں سال 31 دسمبر تک مکمل کرلیا جائے، آئندہ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں وفاق اور صوبوں کے مابین ٹیکس کے حوالے سے ربط میں بہتری لائی جائیگی۔ وہ جمعہ کے روز سول سیکرٹریٹ لاہور میں نویں این ایف سی ایوارڈ کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ مذکورہ اجلاس میں گزشتہ میٹنگ میں تشکیل دیئے گئے 6 ورکنگ گروپس کی طرف سے کئے جانیوالے کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا کیونکہ گزشتہ این ایف سی کے اجلاس میں صوبوں اور وفاق کو اس سلسلہ میں کوآرڈینیشن کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی۔ اسد عمر نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ این ایف سی کے حوالے سے تشکیل دیئے گئے 6 ورکنگ گروپس میں ایک کی وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا بھی ایک ایک جبکہ بلوچستان دو گروپس کی کوآرڈینیشن کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے سوالات، آراءو تجاویز اور سفارشات پر غورو خوض اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا جبکہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں مجموعی طور پر بہتری لانی ہے اور ایک دوسرے سے کچھ چھیننا نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نویں این ایف سی ایوارڈ کی حتمی تاریخ تو نہیں دی جاسکتی لیکن کوشش ہے کہ 31 دسمبر تک این ایف سی ایوارڈ پر پراسیس کو مکمل کرلیا جائے، تاہم ایک دو معاملات ایسے ہیں جن پر اصولی موقف طے پانے کی ضرورت ہے، ان میں سے ایک فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد وہاں کے معاملات میں بہتری لانا ہے اور یہ ساری قوم کا عزم ہے کہ فاٹا کے ترقیاتی کاموں میں تیزی لائی جائے۔ اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد وفاق اور صوبوں کے مابین ٹیکس کے حوالے سے ربط کمزور ہوا لیکن اب ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں اس سلسلہ میں پیش رفت اور بہتری لائی جائیگی۔ ممبر این ایف سی سندھ اسد سعید نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر اصولی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی صوبہ کا نقصان یا کسی کو زائد فائدہ نہ ہو، انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی این ایف سی کے حوالے سے اجلاس کوآپریٹو ماحول میں جاری رہیں گے، ممبر این ایف سی بلوچستان محفوظ علی خان نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی سمیت سکیورٹی کی صورتحال کے باعث اخراجات کئی گنا بڑھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر لانے کیلئے بھی میکنزم بنانے کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا نے کہا کہ تمام صوبوں کی آراءکے مطابق این ایف سی ایوارڈ میں بہتری لانے کی کوشش کی جائیگی، انہوں نے کہا کہ فاٹا کی ڈویلپمنٹ میں پورا ملک حصہ ڈالے گا، وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے پراسیس انتہائی اچھے ماحول میں چل رہا ہے، اجلاس میں تمام اکائیوں کی طرف سے وفاق کے مفاد میں سوچا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نویںاین ایف سی ایوارڈ سے وفاق اور اس کی تمام اکائیوں کو فائدہ حاصل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں تمام صوبوں کا کردار ےکساں اہمےت کا حامل ہے جبکہ فیڈریشن کی مضبوطی صوبوں کے استحکام کی ضامن ہے،قومی مالیاتی کمیشن میں تمام ممبران کی رائے یکساں اہمیت کی حامل ہے، امید ہے کہ صوبے ایک دوسرے کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مشترکہ مفاد کی حامل تجاویز پیش کریں گے اورایک دوسرے کی آراءکا احترام کریں گے۔








