سرینگر ۔ 21 اپریل (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میںمشترکہ حریت قیادت نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کی علالت اور انہیں نازک حالت میں ہسپتال منتقل کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظربندرہنما کی علالت کی خبر سن کر ان کی سلامتی کے حوالے سے پوری کشمیری قوم میںشدید فکر و تشویش پیدا ہو گئی ہے اور یہ بھارتی حکومت …
مقبوضہ کشمیر، مشترکہ حریت قیادت کا یاسین ملک کی علالت اور نازک حالت پر شدید تشویش کا اظہار، حریت پسندقیادت اور نوجوانوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے

مزید خبریں
سرینگر ۔ 21 اپریل (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میںمشترکہ حریت قیادت نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کی علالت اور انہیں نازک حالت میں ہسپتال منتقل کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظربندرہنما کی علالت کی خبر سن کر ان کی سلامتی کے حوالے سے پوری کشمیری قوم میںشدید فکر و تشویش پیدا ہو گئی ہے اور یہ بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی سلامتی کو یقینی بنائے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق نے سرینگر میںجاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ محمد یاسین ملک کو بدنام زمانہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے پہلے جموں کی کورٹ بھلوال جیل میں نظربند رکھا گیا اور پھرپوچھ گچھ کے نام پر بھارتی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے حوالے کرکے دلی لیجایا گیا۔انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کے ساتھ انکے اہلخانہ سمیت کسی کوملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور انہیں مختلف بہانوں سے ٹالا جارہا ہے ۔ آزادی پسند رہنماﺅں نے کہاکہ نظربند رہنماکی موجودہ حالت کے بارے میں ہمارے پاس کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے اور ان کی سلامتی کے حوالے سے مختلف خدشات جنم لے رہے ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہارکیاکہ کشمیر میں سیاسی نظریات کی بنیاد پر مزاحمتی رہنماوں ،دینی جماعتوں کے قائدین ، تاجر پیشہ افراد اور زندگی کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو این آئی اے اور دیگر بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد یاسین ملک کشمیری قوم کے ایک مقبول سیاسی رہنما ہیں اور ان کے ساتھ روا رکھا جانے والاغیر انسانی سلوک انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ محض سیاسی نظریات کی بنیاد پر کسی کو نشانہ بنانا انتقامی کاروائی کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ حریت پسندقیادت اور نوجوانوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پشت بہ دیوار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔








