لاہور۔24 اپریل(اے پی پی )گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ استعفیٰ نہیں دے رہا، یہ وقت بھاگنے کا نہیں بلکہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کا ہے، تحریک انصاف فیملی کی مانند ہے جو پوری طرح اکٹھی ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، وزیراعلی پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی سے کوئی اختلاف نہیں، اتفاق رائے سے پنجاب آب پاک اتھارٹی کا قیام اس …
گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
لاہور۔24 اپریل(اے پی پی )گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ استعفیٰ نہیں دے رہا، یہ وقت بھاگنے کا نہیں بلکہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کا ہے، تحریک انصاف فیملی کی مانند ہے جو پوری طرح اکٹھی ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، وزیراعلی پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی سے کوئی اختلاف نہیں، اتفاق رائے سے پنجاب آب پاک اتھارٹی کا قیام اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارا کوئی اختلاف نہیں، پنجاب کو 100 فیصد وزیراعلی پنجاب چلا رہے ہیں، اپنے آئینی اختیارات کے اندر رہ کر کام کر رہا ہوں، صوبہ میں تقرر و تبادلوں کا اختیار وزیراعلی پنجاب کے پاس ہے، کوئی اگر کہے کہ شہبازشریف سے عثمان بزدار کے اختیارات کم ہیں تو یہ خام خیالی ہے۔ وہ بدھ کے روز یہاںگورنر ہائوس لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے، 5 سال کیلئے مینڈیٹ ملا ہے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں5 سالہ آئینی مدت پوری کریں گے، موجودہ حکومت نے ہیلتھ کارڈ کے اجراء سمیت ”احساس” کے قیام اور صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خاطر خواہ کام کئے ہییں، 50لاکھ گھروں کی تعمیر پر بھی کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظام میں وزیراعظم چیف ایگزیکٹو ہوتے ہیں اور ان کی صوابدید ہے کہ وہ کابینہ میں ردوبدل کر سکتے ہیں جس پر کسی کو تشویش نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی سے اختلاف کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آب پاک اتھارٹی پر وزیراعظم، وزیراعلی اور سپیکر کے درمیان اتفاق رائے نہ ہوتا تو اتھارٹی نہیں بن سکتی تھی، پنجاب آب پاک اتھارٹی کا پیٹرن انچیف ہوں، اس کا بورڈ وزیراعلی پنجاب اور وزیراعظم عمران خان کی مشاورت سے بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کسی بھی آرگنائزیشن کا پیٹرن انچیف بن سکتا ہے، میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں گورنر پنجاب نے کہا تھا کہ اگر امجد جاوید سلیمی کو آئی جی پولیس پنجاب لگوانے کی سفارش کوئی ثابت کر دے تو ہر سزا کیلئے تیار ہوں، گزشتہ 4 سے 5 روز میں پارٹی ورکرز کے پیغامات آئے ان میں سے ایک فیصد بھی لوگ ایسے نہیں تھے جنہوں نے میرے استعفی کا کہا ہو۔ گورنر نے مزید کہا کہ بطور گورنر سرور فائونڈیشن کے لئے فنڈ ریزنگ کرنے پر تنقید کو قبول کرتا ہوں اور اس کی چیئرمین شپ سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جتنے بھی فنڈز امریکا اور کینیڈا میں اکٹھے کئے وہ تمام سرور فائونڈیشن آب پاک اتھارٹی کے حوالے کر دے گی۔ چودھری محمد سرور نے کہا کہ 2013ء میں گورنر ہائوس کے لان میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے 15 کروڑ روپے کی فنڈ ریزنگ کی، کوئی شور نہیں ہوا لیکن 2019ء میں فنڈ ریزنگ پر طوفان برپا کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بطور گورنر جی ایس پی پلس سٹیٹس کیلئے یورپین پارلیمینٹ سے بات کی جس کے ملنے کے بعد پاکستان کو 5 سالوں میں 15 ارب ڈالر کا فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے عہدوں سے کوئی پیار نہیں، لوگوں اور انسانوں سے پیار کرتا ہوں، مجھے گورنر کا عہدہ دینے کا فیصلہ پارٹی نے کیا جو قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی ٹورازم کا فریضہ وزیراعظم کی طرف سے مجھے سونپا گیا ہے کیونکہ دنیا میں ٹورازم کی صنعت ایک نفع بخش صنعت ہے جس پر عمران خان توجہ دے رہے ہیں۔ گورنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں سکھ، عیسائی، ہندو، بدھ اور صوفی ٹورازم کو ڈویلپ کریں گے اور آئندہ 3 سالوں میں ملک میں دو ملین سیاحوں کو لائیں گے جس سے معیشت کو4 سے5ملین ڈالر کا فائدہ ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ میرے دورہ امریکا کے4 مقاصد تھے، ایک پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کرنا تھا جس کی وجہ سے تحریک انصاف اقتدار میں آئی، دوسرا مقصد پاکستانی کمیونٹی کو قائل کرنا تھا کہ وہ پاکستان میں آ کر سرمایہ کاری کریں، تیسرا مقصد پاکستانی کمیونٹی کو اس بات پر قائل کرنا تھا کہ وہ امریکی سیاست میں کردار ادا کریں تاکہ وہ وہاں کے مسلمانوں کے مفادات کو دیکھ سکیں۔ گورنر نے بتایا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ سفارتی محاذ پر امریکا سمیت دیگر ممالک پاکستان کے نقطہ نظر کو تسلیم کر رہے ہیں، پہلے سفارتی محاذ پر بھارت پاکستان پر ہمیشہ غالب رہا، اب ہم نے دنیا کو قائل کیا ہے کہ نریندر مودی الیکشن کیلئے کشیدگی بڑھا رہا ہے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، کرتار پور راہداری کے اقدام کی وجہ سے عمران خان نے 3 کروڑ سکھوں کو اپنا دوست بنا لیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر پنجاب نے کہا کہ پنجاب آب پاک اتھارٹی پر دستخط کر دیئے ہیں، میں یقین دلاتا ہوں کہ اتھارٹی صوبہ میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرے گی، مخیر حضرات سے بھی اپیل ہے کہ وہ صاف پانی کی فراہمی کے نیک کام میں بڑھ چڑھ کر مدد کریں۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ اس حوالے سے جامع حکمت عملی اپنائی جائے گی جس میں اووسیز پاکستانیوں اور انٹرنیشنل این جی اوز سے بھی مدد لی جائے گی جس نے پہلے ہی 100 سے زائد فلٹریشن پلانٹ عطیہ کئے ہیں۔








