اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس ملک کا چہرہ ہیں، وزیراعظم ملک کے مختلف اداروں اور شعبوں میں بہتری کے لیے اصلاحات لانے کے لئے پرعزم ہیں، پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان حکومت اور عوام کی سطح پرمضبوط دو طرفہ تعلقات قائم ہیں ، ان دو طرفہ تعلقات کو …
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا آسٹریلیا کی ہائی کمشنر مارگریٹ ایڈمسن سے ملاقات میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس ملک کا چہرہ ہیں، وزیراعظم ملک کے مختلف اداروں اور شعبوں میں بہتری کے لیے اصلاحات لانے کے لئے پرعزم ہیں، پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان حکومت اور عوام کی سطح پرمضبوط دو طرفہ تعلقات قائم ہیں ، ان دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے میڈیا انفارمیشن اور کلچر کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنیادی آزادی اظہار رائے پر مکمل یقین رکھتی ہے،پاکستان میں جس طرح میڈیا مکمل آزادی کے ساتھ کام کر رہا ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو آسٹریلیا کی پاکستان میں ہائی کمشنر مارگریٹ ایڈمس سے ملاقات میں کیا۔وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کھیلوں کے لحاظ سے ایک دوسرے سے خاص لگاؤ رکھتے ہیں ان شعبوں میں مزید تعاون بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2017 میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تجارت 1.83 بلین ڈالر رہی۔ دونوں ملکوں کے درمیان مربوط تعاون سے معاشی شراکت داری کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں آسٹریلیا کی ہائی کمشنر مارگریٹ ایڈمسن نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان کامیاب معاہدہ خوش آئند ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ پوری دنیا میں اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان اصطلاحات لانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ترقی کی طرف پاکستان کی جاری کاوشوں کو خوش آمدید کہتے ہیںاوردہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی طرف سے نیشنل ایکشن پلان پر پیش رفت کو سراہتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان مشترکہ تجارت کے حوالے سے مشترکہ تجارتی کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے۔








