اسلام آباد ۔ 14 مئی (اے پی پی) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل، سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے حکومت کی طرف سے نجی شعبے سے سید شبر زیدی کو ایف بی آر کا چیئرمین تعینات کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے، شبر زیدی ٹیکس معاملات کے ماہر ہیں اور نجی شعبے کے ٹیکس مسائل کواچھی طرح …
نئے چیئرمین آئندہ بجٹ میں ملک میں ٹیکس کمپلائنس کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دیں، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 مئی (اے پی پی) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل، سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے حکومت کی طرف سے نجی شعبے سے سید شبر زیدی کو ایف بی آر کا چیئرمین تعینات کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے، شبر زیدی ٹیکس معاملات کے ماہر ہیں اور نجی شعبے کے ٹیکس مسائل کواچھی طرح سمجھتے ہیں۔منگل کو یہاں ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے نئے چیئرمین آئندہ بجٹ میں مزید ٹیکس لگانے یا ٹیکسوں میں اضافہ کرنے کی بجائے ملک میں ٹیکس کمپلائنس کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اگر ٹیکس کمپلائنس کو بڑھا کر 75فیصد تک لے جائے تومزید نئے ٹیکس عائد کئے یا ٹیکس ریٹ میں اضافہ کئے بغیر ٹیکس ریونیو کو دگنا کیا جا سکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو 5ہزار روپے سے زائد کا سالانہ ٹیکس ریونیو ہدف تجویز کیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکس ریٹ کو مزید بڑھانے یا نئے ٹیکس عائد کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ ٹیکسوں میں اضافے نے ہمیشہ ٹیکس چوری کو فروغ دیا ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ایف بی آر آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں کے ریٹ کو کم کرے، ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کی کوشش کرے اور مختلف ترغیبات کے ذریعے ٹیکس کمپلائنس کو فروغ دینے پر زیادہ توجہ دے جس سے مجوزہ ٹیکس ریونیو کا ہدف حاصل کرنا آسان ہو گا۔ احمد حسن مغل نے اس امید کا اظہار کیا کہ چیئرمین ایف بی آر ٹیکس کمپلائنس کو بڑھا کر ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو موجودہ 13فیصد سے بڑھا کر26فیصد تک لے جانے کی بھرپور کوشش کریں گے جو ملک کی اصل ٹیکس ریونیو کی صلاحیت ہے اور جس سے ٹیکس ریونیو میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔ انہوںنے کہ چیئرمین ایف بی آر نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہیں محکمہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ان کی منظوی کے بغیر اور کم از کم 24گھنٹے پیشگی نوٹس کے بغیر کسی ٹیکس دہندہ کا بینک اکائونٹ اٹیچ نہ کیا جائے جو ایک قابل تعریف فیصلہ ہے کیونکہ ایسے فیصلوں سے ٹیکس دہندگان میں خوف و ہراس کم ہو گا اور ٹیکس محکمہ پر ان کا اعتماد بحال ہو گا۔ آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام مشکل اور پیچیدہ ہونے کی وجہ سے دستاویزی معیشت کو فروغ دینے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں غیر دستاویزی معیشت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے لیکن ٹیکس ریونیو میں اس کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوںنے کہا کہ ملکی معیشت کی ترقی کا دار و مدار ٹیکس ریونیو میں اضافے پر منحصر ہے تاہم کاروبار دوستانہ ٹیکس نظام تشکیل دے کر ہی پاکستان اپنی صلاحیت کے مطابق ٹیکس ریونیو کو فروغ دے سکتا ہے اور معیشت کو مستحکم کرنے کی طرف مثبت پیش رفت کر سکتا ہے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے چیئرمین موجودہ ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات لانے کی بھرپور کوشش کریں۔








