وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ڈویژن ندیم بابر کی ڈنمارک کے سفیر سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 17 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ڈویژن ندیم بابر نے کہا ہے کہ پچھلے پانچ سال میں تیل وگیس کی تلاش و پیداوار کے نئے بلاکس نیلام نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے گیس کی پیداوار میں سالانہ 5 فیصد سے 7 فیصد کمی ہوئی۔ یہ بات ندیم بابر نے جمعہ کو پاکستان میں ڈنمارک کے سفیر رالف مائیکل سے ملاقات …

اسلام آباد ۔ 17 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ڈویژن ندیم بابر نے کہا ہے کہ پچھلے پانچ سال میں تیل وگیس کی تلاش و پیداوار کے نئے بلاکس نیلام نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے گیس کی پیداوار میں سالانہ 5 فیصد سے 7 فیصد کمی ہوئی۔ یہ بات ندیم بابر نے جمعہ کو پاکستان میں ڈنمارک کے سفیر رالف مائیکل سے ملاقات کے دوران کہی۔ڈنمارک کے .سفیر نے واضح کیا کہ بہت سے ڈنمارک کے کارخانہ دار پاکستان میں ہوائی ٹربائن لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں ہیں۔ معاون خصوصی نے اس بات کی تعریف کی۔ ندیم بابر نے کہا کہ توانائی ملک کی معاشی صورت حال اور جی ڈی پی گروتھ میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے پٹرولیم ڈویژن کے نئے پروجیکٹس کے بارے میں بتایا یا.حکومت 7 ترامیم کے ساتھ ایک نئی جامع تیل وگیس کی پالیسی لے کر آ رہی ہے، یہ پالیسی اگست تک کابینہ کے سامنے رکھی جائے گی اور وفاقی کابینہ کی باضابطہ منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد ہوگا۔ ملک میں اس وقت361000 مربع کلومیٹر پر تیل و گیس کی تلاش کا کام جاری ہے ابھی تک 1100 مربع کلومیٹر پر تیل و گیس کے کنویں کھودے جا چکے ہیں۔ پاکستان میں تیل و گیس کی دریافت کے نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں۔ ندیم بابر نے کہا کہ دریافت کے لئے چالیس نے بلاک کی تشخیص کی جا چکی ہے جن میں سے پہلے مرحلے میں دس سے پندرہ بلاکس نیلامی کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ یہ عمل جنوری تا فروری تک مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ لوکل ریفائنریاں صرف 12 ملین ٹن کی پٹرولیم مصنوعات پیدا کر رہی ہیں جبکہ سالانہ طلب 25 ملین ٹن کی ہے۔ معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعاون سے بڑی ریفائنریوں کے قیام اور موجود ریفائنریوں کی توسیع ست مقامی ضروریات میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تیل کی نقل و حرکت کے لیے آف روڈ ذرائع استعمال کرنے میں گہری دلچسپی لے رہی ہے یہی وجہ ہے کہ لاہور سے پشاور تک پائپ لائن بچھانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ڈنمارک کے سفیر نے توانائی کے شعبے میں حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک کی حکومت، پاکستان میں اس شعبے میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔

Leave a Reply