کویت سٹی ۔ 19مئی (اے پی پی) وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ پاکستان کویت کے ساتھ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، 2011 سے لگا ئی گئی ویزہ پابندیوں سے پاکستان کو مستثنیٰ قرار دیا جائے، پاکستان میں کویت کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے، پاکستانی حکومت اور عوام کے دلوں میں کویتی قیادت باالخصوص امیر کویت کیلئے بہت احترام پایا جاتا ہے، پاکستان میں …
وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی کویتی تاجروں اورصنعت کاروں کے وفد سے گفتگو

مزید خبریں
کویت سٹی ۔ 19مئی (اے پی پی) وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ پاکستان کویت کے ساتھ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، 2011 سے لگا ئی گئی ویزہ پابندیوں سے پاکستان کو مستثنیٰ قرار دیا جائے، پاکستان میں کویت کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کریں گے، پاکستانی حکومت اور عوام کے دلوں میں کویتی قیادت باالخصوص امیر کویت کیلئے بہت احترام پایا جاتا ہے، پاکستان میں توانائی،زراعت ،صحت ،تعلیم اور تعمیرات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار کویت کی وزارت داخلہ میں کویت کے نائب وزیراعظم و وزیر داخلہ شیخ خالد الجراح الصباح اورابوشیبا گروپ آف کمپنیز کے چیرمین صیاح ابو شیبا کی سربراہی میں کویتی تاجروں اورصنعت کاروں کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ کویت کے نائب وزیراعظم و وزیر داخلہ شیخ خالد الجراح الصباح سے ملاقات میں پاک کویت دو طرفہ تعلقات اور ویزہ پابندیوں کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے دورہ ء کویت کی دعوت اور گرم جوشی سے خیر مقدم پر کویتی وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کویت کے ساتھ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے پاکستانی حکومت اور عوام کے دلوں میں کویتی قیادت باالخصوص امیر کویت کیلئے بہت احترام پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کویت کی تعمیر و ترقی میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانی افرادی قوت اپنا کردار ادا کر رہی ہے ۔ کویت میں سالہا سال سے مقیم پاکستانی کمیونٹی، ویزہ پابندیوں کے حوالے سے انتہائی تذبذب کا شکار ہے انہیں اپنی فیملیز کو کویت بلوانے میں کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ 2015 میں ایک لاکھ پندرہ ہزار پاکستانی کویت میں مقیم تھے جن کی تعداد کم ہو کر ایک لاکھ پانچ ہزار تک آ گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری درخواست ہے کہ ویزہ پالیسی پر نظر ثانی کی جائے اور 2011 سے لگا ئی گی ویزہ پابندیوں سے پاکستان کو مستثنیٰ قرار دیا جائے ۔کویتی نائب وزیراعظم و وزیر داخلہ شیخ خالد الجراح الصباح نے وزیر خارجہ کی کویت آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ کویتی حکومت پاکستان کی طرف سے کی گئی درخواست پر ہمدردانہ غور کریگی اور اس مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ کاوشوں کی یقین دھانی کرائی۔قبل ازیں وزیرخارجہ سے ابوشیبا گروپ آف کمپنیز کے چیرمین صیاح ابو شیبا کی سربراہی میں کویتی تاجروں اورصنعت کاروں کے وفد نے ملاقات کی ۔ ملاقات کے دوران پاکستان میں تجارت اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے دستیاب مواقع کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان میں توانائی،زراعت ،صحت ،تعلیم اور تعمیرات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اورہم پاکستان میں کویتی کمپنیوں کی طرف سے کی جانے والی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کریں گے، انہوں نے کہاکہ پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت، بیرونی سرمایہ کاری کو نہ صرف بڑھانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے بلکہ سرمایہ کاروں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کیلئے بھی ہر عزم ہے ۔کویتی وفد نے وزیر خارجہ کی کویت آمد پر ان کا خیر مقدم کیا اور پاکستان میں عنقریب بڑی سرمایہ کاری کی نوید بھی سنائی۔ وفد کے سربراہ نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کوکویت بزنس کمیونٹی کی طرف سے یاداشت کیلئے سوئینر بھی پیشِ کئے۔








