اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ سپر ٹیکس کے لئے واجب الادا رقم کے حساب کے وقت روپے کی قدر میں کمی اور سابقہ کاروباری نقصانات کو شامل نہیں کیا جاتا، ٹیکس کے حوالے سے ایک جیسے برتاﺅ کو یقینی بنانے کے لئے قانون کو دوسرے اداروں کے مطابق کیا جائے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی …
سپر ٹیکس کے لئے واجب الادا رقم کے حساب کے وقت روپے کی قدر میں کمی اور سابقہ کاروباری نقصانات کو شامل نہیں کیا جاتا،وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ سپر ٹیکس کے لئے واجب الادا رقم کے حساب کے وقت روپے کی قدر میں کمی اور سابقہ کاروباری نقصانات کو شامل نہیں کیا جاتا، ٹیکس کے حوالے سے ایک جیسے برتاﺅ کو یقینی بنانے کے لئے قانون کو دوسرے اداروں کے مطابق کیا جائے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2019-20ءکا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ Brought forward lossesاور کرنسی کی قدر میں کمی کو سپر ٹیکس کے لئے آمدن کے حساب کے وقت شمار نہیںکیا جائے گا، سپر ٹیکس ایکٹ 2015ءکے ذریعے متعارف کروایا گیا تھا۔ یہ تمام بینکنگ کمپنیوں اور ایسے دیگر افراد پر لاگو ہوتا ہے جن کی آمدن 50کروڑ روپے سے زائد ہو۔ سپر ٹیکس کے لئے واجب الادا رقم کے حساب کے وقت depreciationاور سابقہ کاروباری نقصانات کو شامل نہیں کیا جاتا۔ تاہم بینکنگ کمپنیوں کی صورت میں انہیں شامل کیا جاتا ہے۔ ٹیکس کے حوالے سے ایک جیسے برتاﺅ کو یقینی بنانے کے لئے تجویز ہے کہ بینکوں کے لئے بھی قانون کو دوسرے اداروں کے مطابق کیا جائے۔








