وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کاقومی اسمبلی میںبجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ 2008ءمیں جاسوسوں کو قونصلر رسائی نہ ملنے کے حوالے سے بھارت کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اگر اقوام متحدہ میں رجسٹرڈ کرا لیا جاتا تو آج بھارت کلبھوشن یادیو کا کیس عالمی عدالت انصاف میں نہیں لے جاسکتا تھا‘ ایف اے ٹی ایف میں سعودی عرب سمیت 39 ممالک شامل …

اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ 2008ءمیں جاسوسوں کو قونصلر رسائی نہ ملنے کے حوالے سے بھارت کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اگر اقوام متحدہ میں رجسٹرڈ کرا لیا جاتا تو آج بھارت کلبھوشن یادیو کا کیس عالمی عدالت انصاف میں نہیں لے جاسکتا تھا‘ ایف اے ٹی ایف میں سعودی عرب سمیت 39 ممالک شامل ہیں تاہم منی لانڈرنگ کے ذمہ دار سابق حکمرانوں نے پاکستان کو اس میں شامل نہیں ہونے دیا‘ اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ہمارے لیڈروں کی جانب سے حکمرانی اور این آر او کے لئے امریکہ کے پاﺅں پڑنے کی تحقیقات کرائی جائیں۔ 2008ءمیں ہماری حکومت بھارت کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اقوام متحدہ میں رجسٹرڈ کرا دیتے تو بھارتی درخواست آئی سی جے میں نہیں جاسکتی تھی۔

مزید خبریں

Leave a Reply