آئی ایم ایف کی پاکستان سے متعلق سٹاف رپورٹ

اسلام آباد ۔ 15 جولائی (اے پی پی) عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہاہے کہ مالی سال 2023-24 ءتک فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے محصولات میں 10.5 ٹریلین روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، 2020-21 ءمیں حسابات جاریہ کا خسارہ مزید کم ہوکر5.49 ارب ڈالرہوجائیگا، تجارتی خسارہ میں کمی اوربرآمدات میں بتدریج اضافہ ہوگا۔ یہ بات آئی ایم ایف کی پاکستان سے متعلق سٹاف رپورٹ میں کہی …

اسلام آباد ۔ 15 جولائی (اے پی پی) عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہاہے کہ مالی سال 2023-24 ءتک فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے محصولات میں 10.5 ٹریلین روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، 2020-21 ءمیں حسابات جاریہ کا خسارہ مزید کم ہوکر5.49 ارب ڈالرہوجائیگا، تجارتی خسارہ میں کمی اوربرآمدات میں بتدریج اضافہ ہوگا۔ یہ بات آئی ایم ایف کی پاکستان سے متعلق سٹاف رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر 5.5 ٹریلین روپے کے محصولات کا ہدف حاصل کرے گا، آئندہ مالی سال میں ایف بی آر کے محصولات 7.001 ٹریلین ، مالی سال 2021.22 ءمیں 8.3 ٹریلین اور مالی سال2022-23 ءمیں ایف بی آر 9.48 ٹریلین کے محصولات حاصل کرے گا۔آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال میں مجموعی محصولات 7.165 ٹریلین روپے، 2020-21ءمیں 8.3 ٹریلین ، 2022-23 ءمیں 12.12 اور2023-24 ءمیں 13.37 ٹریلین روپے تک پہنچ جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان اصلاحات اورپالیسی اقدامات جاری رکھنے میں پرعزم ہے جس کے نتیجے میں ملک میں محصولات جمع کرنے میں نمایاں اضافہ ہوگا۔رپورٹ میں معیشت کی بہتری اورٹیکس اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک میں اس وقت ٹیکس ریٹرن جمع کرنے والوں کی تعداد 1.5 ملین سے کم ہے، اس تناظر میں کئے جانیوالے اقدامات میں ٹیکس وصولی کے نظام ، ٹیکس میں وسعت اورٹیکس کی شرح کو کم کرنے پرتوجہ مرکوز کی جارہی ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply