اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کیس سے متعلق عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ پاکستان کی اخلاقی فتح اور پاکستان کے انصاف اور قانون کے نظام پر اعتماد کا اظہار ہے، عالمی عدالت نے کمانڈر یادیو کو نظرثانی کا حق دیا ہے لیکن اس کا فیصلہ پاکستان کریگا، پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور انتہائی ذمہ …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے پر پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کیس سے متعلق عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ پاکستان کی اخلاقی فتح اور پاکستان کے انصاف اور قانون کے نظام پر اعتماد کا اظہار ہے، عالمی عدالت نے کمانڈر یادیو کو نظرثانی کا حق دیا ہے لیکن اس کا فیصلہ پاکستان کریگا، پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور انتہائی ذمہ دارانہ رویہ اختیارکیا، ملٹری کورٹ کے فیصلے کو کالعدم نہیں کیا گیا، اگرچہ یہ بھارت کی خواہش تھی،پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کا احترام کیا۔ بدھ کو کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ آج پاکستان سمیت پوری دنیا کو جس فیصلے کا انتظار تھا وہ سنا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں آج پوری قوم کو اس فیصلے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں یہ ہماری اخلاقی فتح ہے۔ہندوستان اس کیس کو عالمی عدالت میں اس بنیاد پر لے کر گیا کہ کمانڈر یادیو کی سزا کو ختم کیا جائے اور اسے بھارت کے حوالے کیا جائے لیکن عدالت نے ان کی بات کو رد کیا ہے۔ہمارا نکتہ ءنظر یہ تھا اور ہے کہ وہ دہشت گرد تھا اور جاسوس تھا اور اس بات کا اعتراف بھی اس نے کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی عدالت نے کمانڈر یادیو کو ریویو کا حق دیا ہے لیکن اس کا فیصلہ پاکستان کریگا اس میں پاکستان کی سالمیت کا احترام کیا گیا ہے۔کمانڈر یادیو کے پاس اپیل کا حق توپہلے سے ہی تھا وہ ملٹری کورٹ کے بعد ہائی کورٹ،سپریم کورٹ جا سکتا تھا رحم کی اپیل تک کا حق حاصل تھا۔یہ بات قابل غور ہے کہ آخر بھارت کو آئی سی جے میں جا کر حاصل کیا ہوا؟۔انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت نے ملٹری کورٹ کے فیصلے کو منسوخ نہیں کیا یہ بھی پاکستان کے انصاف اور قانون کے نظام پر اعتماد کا اظہار ہے۔








