وزیراعظم عمران خان کا واشنگٹن میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب

واشنگٹن ۔ 21 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں، پاکستان جغرافیائی اعتبار سے بے پناہ صلاحیتوں کا حامل منفرد ملک ہے جہاں سرمایہ کاری سے استفادہ کرنا چاہئے، چین پاکستان کو سٹرٹیجک شراکت دار سمجھتا ہے جو پاکستان کیلئے بہت بڑا موقع ہے، سرمایہ کاروں کی سہولت اور صنعت کاری، …

واشنگٹن ۔ 21 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں، پاکستان جغرافیائی اعتبار سے بے پناہ صلاحیتوں کا حامل منفرد ملک ہے جہاں سرمایہ کاری سے استفادہ کرنا چاہئے، چین پاکستان کو سٹرٹیجک شراکت دار سمجھتا ہے جو پاکستان کیلئے بہت بڑا موقع ہے، سرمایہ کاروں کی سہولت اور صنعت کاری، زراعت اور کاروبار کو آسان بنانے کیلئے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں، پاکستان ترقی کرتا ہے تو تارکین وطن کو بھی اس کا فائدہ ہوتا ہے، سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ون ونڈو آپریشن شروع کرینگے، دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے ساتھ انتخابی عمل میں حصہ لینے سے متعلق بھی قانون سازی کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے واشنگٹن میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سر مایہ کاری میں امریکہ کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد امریکی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ چین پاکستان کا بہترین دوست جو پاکستان کو اپنا سٹرٹیجک شراکت دار سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ دور اندیش سیاستدان ہیں جن کی نظریں پوری دنیا پر ہیں۔ سی پیک کے ذریعے سرمایہ کاروں کو استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مشرق بعید کے لینڈ لاک ممالک بھی گوادر کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں کسی نے ٹیکنالوجی اور زراعت پر سر مایہ کاری نہیں کی اب ہم نے چین کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط کئے ہیں جس کے ذریعے چین ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں دودھ اور ماہی کی پیداوار میں اضافے کیلئے معاونت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اوسط 6 لیٹر دودھ کی پیداوار ہے جبکہ دنیا میں 20 سے24 لیٹر دودھ کی پیداوار لی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کے شعبہ میں پاکستان دنیا کے کسی ملک سے کم نہیں یہاں بدھ مت ، سکھ مذہب اور دیگر تہذیبوں کے مذہبی مقامات ہیں اور مذہبی سیاحت کو فروغ دے کر ہم اپنے وسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ ماضی میں اس پر توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے آج ہمیں آئی ایم ایف کے پروگرام کیلئے جانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاروں کو منافع بخش بنانے کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی جب سرمایہ کار کی حوصلہ افزائی نہیں ہو گی تو وہ ملک سے چلا جاتا ہے۔ ہم نے پاکستان میں اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہے اور کاروبار کو آسان بنانے، صنعت کاری کے فروغ اور سرمایہ کاروں کو منافع کمانے کے قابل بنانے کی حوصلہ افزائی کرنی ہے تاکہ سرمایہ کار پاکستان آئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ نئے پاکستان کے وزیر عبدالر زاق داﺅد بہترین صنعت کار اور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ماہر معاشیات ہیں۔ ان کی مدد سے ہم ویلتھ کریایشن اور زراعت کے فروغ کی جانب بڑھ رہے ہیں جن سے فوری آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تارکین وطن سرمایہ کاروں سے ہماری توقعات وابستہ ہیں کیونکہ پاکستان جتنا ترقی کرے گا تارکین وطن کو بھی اتنا ہی فائدہ ہو گا۔ وزیراعظم نے اسلاموفوبیا کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے کی وجہ سے دنیا میں کئی مسلم خاندان مشکلات کا شکار ہیں جس سے دکھ ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے علاوہ قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، جاپان اور دیگر بہت سے ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کر رہے ہیں۔ دوہری شہریت کے حامل افراد کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ انہیں ووٹ کا حق ملنے کے ساتھ ساتھ الیکشن میں حصہ لینے کا بھی حق حاصل ہو سکے۔

Leave a Reply