اسلام آباد ۔ 26 جولائی (اے پی پی) وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر حجاز مقدس میں پاکستانی حاجیوں کو کھانے کی فراہمی کے حوالے سے تحفظات بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے برعکس ہیں، کھانے کی مقدار، معیار، حفظان صحت کے اصولوں اور بروقت فراہمی کے حوالے سے ایس او پیز پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا ،تمام …
تمام پاکستانی حاجی وزارت مذہبی امور کی طرف سے فراہم کی جانے والی خدمات سے مطمئن ہیں، وزارت مذہبی امور کے ترجمان کی ”اے پی پی“ سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 جولائی (اے پی پی) وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر حجاز مقدس میں پاکستانی حاجیوں کو کھانے کی فراہمی کے حوالے سے تحفظات بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے برعکس ہیں، کھانے کی مقدار، معیار، حفظان صحت کے اصولوں اور بروقت فراہمی کے حوالے سے ایس او پیز پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا ،تمام پاکستانی حاجی وزارت مذہبی امور کی طرف سے فراہم کی جانے والی خدمات مطمئن ہیں۔ جمعہ کو ”اے پی پی“ سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہاکہ سرکاری حج سکیم کی سے خاص بات یہ ہے کہ 40 سے 45 دن تمام عازمین حج کی رہائش گاہوں تک تین وقت کا کھانا فراہم کرنا ہے۔ یہ سہولیات فی الوقت پاکستان سمیت صرف چند ممالک کو میسر ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش اور افغانستان سمیت دیگر ممالک کے عازمین حج کو تین وقت کے کھانے کے لئے مناسب سہولیات تک جانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستنی حاجیوں کے لئے چند سال قبل شروع کی جانے والی اس سہولت میں عازمین حج کی مسلسل فیڈ بیک کے ذریعے بہتری لائی جارہی ہے۔ سعودی وزارت حج کی منظوری سے13 کیٹرنگ کمپنیوں کو ٹھیکہ دیا گیا ہے، یہ کمپنیاں جدید کچن میں کھانے تیار کرکے حاجیوں کو فراہم کرتی ہیں، کھانے میں حاجیوں کو گوشت، مرغی، دالیں، سبزیاں، روٹی، خبز، لسی، پھل، دہی، میٹھا اور پانی شامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ حاجی کھانے سمیت دیگر سہولیات سے کافی حد تک مطمئن ہیں تاہم اس کے باوجود کھانے کے معیارات اور حفظان صحت کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ کھانے کی مقدار، معیار، صفائی اور تمام ایس اوپیز کی چیکنگ کےلئے اچانک دورے کئے جاتے ہیں۔ ترجمان نے کہا ہے کہ کھانے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر اطلاعات گمراہ کن اور حقائق کے برعکس ہیں، تمام عازمین حج اس حوالے سے انتہائی مطمئن ہیں۔








