وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی حریت رہنما عبدالحمید لون، سی ای اوکشمیر میڈیا سروس تجمل الاسلام کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 7 اگست (اے پی پی)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بھارت اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعہ کشمیرکے عوام کو زیادہ عرصہ تک یرغمال نہیں رکھ سکتا، کشمیری عوام بھارت کے غاصبانہ تسلط کو کبھی قبول نہیں کریں ۔ وہ بدھ کوحریت رہنما عبدالحمید لون، کشمیر میڈیا سروس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تجمل الاسلام کے ہمراہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ( …

اسلام آباد ۔ 7 اگست (اے پی پی)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ بھارت اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعہ کشمیرکے عوام کو زیادہ عرصہ تک یرغمال نہیں رکھ سکتا، کشمیری عوام بھارت کے غاصبانہ تسلط کو کبھی قبول نہیں کریں ۔ وہ بدھ کوحریت رہنما عبدالحمید لون، کشمیر میڈیا سروس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تجمل الاسلام کے ہمراہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ( پی آئی ڈی) میں نیوز کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بھارت جوبھی کرے لیکن کشمیر پر اس کا غاصبانہ قبضہ کسی صورت جائز نہیں ہوسکتا اورنہ اسے کشمیری عوام کبھی قبول کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیرمیں اپنی جنگ ہار چکا ہے اگر ایسانہ ہوتا تواسے وہاں لاکھوں فوجی تعینات کرنے کی ضرورت نہ پیش آتی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو بھارت کے تسلط کا کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ 22 کروڑ عوام اور وزیراعظم عمران خان موجودہ حکومت کی طرف سے یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر پر مر مٹنے کو تیار ہے۔ تاریخ کا سبق ہے دنیا کی کسی قوم کو طاقت کے زور پر زیادہ عرصہ یرغمال نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کا کشمیر پر قبضہ کسی صورت جائز نہیں ہو سکتا۔ کشمیریوں کو بھارت کا حالیہ فیصلہ قبول نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں 9 لاکھ سے زائد فوج تعینات کر رکھی ہے۔ بھارت کے اوچھے ہتھکنڈے ظاہر کرتے ہیں کہ کشمیری بھارت کے ساتھ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی میڈیا کا کشمیر کاز کے معاملے پر قومی بیانیے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ہے۔ قومی بیانیے اور قومی مفادات کو اجاگر کرنے کے لئے میڈیا کا مثبت اور مؤثر کردار سامنے آنا چاہیے۔ معاون خصوصی نے کہاکہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس پیر کو پروڈکشن آڈر کی نظر ہو گیا۔ اپوزیشن نے گرفتار رہنمائوں کو ایوان میں لانے کے لئے شور شرابا کیا۔ وزیر اعظم عمران خان کو ان کے لئے کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا لیکن پروڈکشن پر ایوان میں آنے والے ممبران نے اجلاس کی کارروائی میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شیخ تجمل الاسلام نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کی ہے اور ہم توقع کرتے ہیں یہ حمایت ہمیشہ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کل کا بیان کشمیریوں کے لئے بہت حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قراردادیں موجود ہیں۔ پاکستان موجودہ صورتحال کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چیپٹر 6 کے تحت ہے لیکن موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان کو اس مسئلے کو چیپٹر 7 کے تحت اٹھاناچاہیے۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے تمام صورتحال کے پس منظر سے آگاہ کیا ہے اور آر ایس ایس کے عزائم کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عالمی عدالت انصاف میں اس معاملے کو اٹھایا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں
جمہوریہ ترکیہ کے سفارتخانے کی جانب سے ترکیہ وظائف 2026 کیلئے منتخب پاکستانی طلبہ کے اعزاز میں تعارفی و رہنمائی پروگرام کا انعقاد
جمہوریہ ترکیہ کے سفارتخانے کی جانب سے ترکیہ وظائف 2026 کیلئے منتخب پاکستانی طلبہ کے اعزاز میں تعارفی و رہنمائی پروگرام کا انعقاد اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں جمہوریہ ترکیہ کے سفارتخانے نے ترکیہ وظائف 2026 کے لیے منتخب پاکستانی طلبہ کے اعزاز میں تعارفی و رہنمائی پروگرام کا انعقاد کیا جس میں نئے منتخب طلبہ، ترکیہ میں زیر تعلیم رہنے والے سابق پاکستانی طلبہ اور سفارتخانے کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ترکیہ وظائف حکومت جمہوریہ ترکیہ کی جانب سے بیرون ملک ترک باشندوں اور متعلقہ برادریوں کے امور کے ادارے کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں جن کے تحت بین الاقوامی طلبہ کو ترکیہ کی ممتاز جامعات میں انڈر گریجویٹ، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ سال 2026ء میں پاکستان بھر سے 112 طلبہ کو ترکیہ وظائف کے لیے منتخب کیا گیا۔ اسلام آباد میں منعقدہ تعارفی پروگرام کا مقصد اسلام آباد اور گردونواح سے تعلق رکھنے والے منتخب طلبہ کو ترکیہ میں اعلیٰ تعلیم کے آغاز سے قبل ضروری معلومات اور رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ پروگرام کا آغاز جمہوریہ ترکیہ کے سفیر کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں ترکیہ وظائف کے تعلیمی حلقے میں خوش آمدید کہا۔ سفیر نے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تعلیمی اور عوامی روابط کی اہمیت پر زور دیا اور طلبہ کو ترکیہ میں اپنے تعلیمی تجربے سے بھرپور استفادہ کرنے کی ترغیب دی۔ اس موقع پر ترک سابق طلبہ انجمن کے صدر نے بھی طلبہ سے خطاب کیا اور اپنے تجربات کی روشنی میں انہیں ترکیہ میں تعلیمی زندگی اور دستیاب مواقع سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعلیمی روابط کے فروغ میں سابق طلبہ کے کردار کو اجاگر کیا۔ بعد ازاں سفارتخانے کے دفتر برائے تعلیمی مشاورت کی جانب سے طلبہ کے لیے خصوصی تعارفی نشست منعقد کی گئی جس میں پاکستان سے ترکیہ روانگی کی تیاری، ترکیہ پہنچنے کے بعد ابتدائی مراحل، جامعات میں تعلیمی و سماجی زندگی سے ہم آہنگی اور کامیاب تعلیمی سفر کے حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کی گئی۔ پروگرام کے دوران منتخب طلبہ نے اپنا تعارف بھی کرایا اور اپنے تعلیمی پس منظر کے ساتھ ان ترک جامعات اور تعلیمی پروگراموں کے بارے میں بتایا جن میں وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں گے۔ نشست نے طلبہ کو ایک دوسرے سے متعارف ہونے اور روانگی سے قبل ترکیہ وظائف کے سابق طلبہ اور دیگر اراکین سے رابطہ قائم کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ سفارتخانہ ترکیہ نے تمام کامیاب امیدواروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے تعلیمی سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ طلبہ پر زور دیا گیا کہ وہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی کی نمائندگی کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سفارتخانہ جمہوریہ ترکیہ نے ترکیہ وظائف 2026 کے تمام منتخب طلبہ کے لیے ان کی تعلیم اور مستقبل میں کامیابی کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔