ایف بی آر نے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں 9.41 ارب روپے کا فراڈ پکڑ لیا، منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج
ایف بی آر نے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں 9.41 ارب روپے کا فراڈ پکڑ لیا، منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایک ایسے فراڈ کا پردہ فاش کیا ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان نے اپنی پرانی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں غیر قانونی ترامیم کر کے 9.41 ارب روپے مالیت کے غیر واضح اثاثے اپنی ظاہر شدہ دولت میں شامل کر لیے، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید مقدمات کا عمل جاری ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے بدھ کویہاں جاری بیان کے مطابق یہ فراڈ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کے تعاون سے ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کے تفصیلی تجزیے کے ذریعے بے نقاب کیا۔ تجزیے میں 85 ایسے ٹیکس دہندگان کی نشاندہی ہوئی جنہوں نے مارچ 2025ء سے جون 2026ء کے دوران ٹیکس سال 2014ء سے 2019ء تک کی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں ترمیم کر کے نقد رقم، سونا، پرائز بانڈز، جائیدادیں اور کاروباری سرمایہ شامل کیا جو اس سے پہلے کبھی ظاہر نہیں کیا گیا تھا،قانون اس کی واضح طور پر ممانعت کرتا ہے، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 116(3) کی وضاحت کے تحت اصل ریٹرن کی مقررہ تاریخ سے پانچ سال گزرنے کے بعد ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ترمیم نہیں کی جا سکتی،نشاندہی کی گئی تمام ترامیم اس مدت کے کافی عرصے بعد کی گئیں۔
ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو لاہور کی جانب سے درج کیے گئے ایک مقدمے میں لاہور ریجن کے ایک ٹیکس دہندہ نے مئی 2026ء میں ٹیکس سال 2015ء کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ترمیم کر کے 10 کروڑ 28 لاکھ روپے کے فرضی فنڈز شامل کیے۔ بعد ازاں یہ رقم ٹیکس سال 2025ء تک کی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں آگے بڑھائی گئی اور مئی اور جون 2026ء میں خریدی گئی 6 کروڑ 44 لاکھ روپے مالیت کی سات جائیدادوں کا جواز بنانے کے لیے استعمال کی گئی۔
پوچھے جانے پر ٹیکس دہندہ ان فنڈز کا ذریعہ واضح نہ کر سکا۔ صرف اس ایک کیس میں ٹیکس چوری کی رقم 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد ہے۔انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کے علاقائی ڈائریکٹوریٹس نے ملک بھر میں 48 فوجداری انکوائریاں شروع کر دی ہیں جبکہ باقی کیسز میں کارروائی جاری ہے۔
منی لانڈرنگ کا مقدمہ متعلقہ ٹیکس دہندہ اور اس کے کسی بھی معاون کے خلاف درج کیا گیا ہے اور اس فراڈ میں شامل ہر شخص کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے مزید مقدمات کا عمل جاری ہے۔بیان میں ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ کسی کو ٹیکس نظام کے ذریعے غیر واضح دولت کو جائز بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایف بی آر کا ڈیٹا اینالیٹکس نظام ایسی ہیرا پھیری پر مسلسل نظر رکھے گا اور ملوث پائے جانے والے ہر شخص کے خلاف جرمانے اور فوجداری مقدمات سمیت قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔








