پشاورہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کی جامعات میں انتظامی عہدوں پر اساتذہ اور غیر انتظامی عملے کی تعیناتی کے خلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس کامران حیات نے تحریر کیا ہے
پشاورہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کی جامعات میں انتظامی عہدوں پر اساتذہ اور غیر انتظامی عملے کی تعیناتی کے خلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

مزید خبریں
پشاور۔ 30 ستمبر (اے پی پی):پشاورہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کی جامعات میں انتظامی عہدوں پر اساتذہ اور غیر انتظامی عملے کی تعیناتی کے خلاف کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس کامران حیات نے تحریر کیا ہے۔ پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ جامعات میں انتظامی عہدوں پر تقرری کے دوران متعلقہ قانون اور مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔فیصلے کے مطابق یونیورسٹی ایکٹ 2012 کی شق 17-اے کے تحت ایڈمنسٹریٹیو پوزیشنز پر تقرری کے دوران قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہے، عدالت نے جامعات کو موجودہ انتظامات کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ یا دیگر غیر انتظامی عملے کو طویل عرصے تک مستقل طور پر ان ایڈمنسٹریٹیو پوزیشنز پر تعینات رکھنے سے گریز کیا جائے۔ عدالت کے مطابق اگر ایسے کسی عہدے کے لیے موزوں انتظامی افسر دستیاب نہ ہو تو قانون کے مطابق متعلقہ افسر کی تقرری کا عمل مکمل کیا جائے۔
پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ یونیورسٹی قانون کی شق 11 کی ذیلی دفعہ 5(1) کو شق 17-اے میں عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے ایڈمنسٹریٹیو عہدوں پر تقرری کے معاملے میں قانون کی متعلقہ شقوں پر عملدرآمد کو ضروری قرار دیا۔ کیس میں درخواست گزار کے وکیل آصف بابر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے کی یونیورسٹیز میں ایڈمنسٹریٹیو پوزیشنز پر غیر متعلقہ افسران کو تعینات کیا گیا ہے۔وکیل درخواست گزار کے مطابق ان پوزیشنز پر اساتذہ کی تعیناتی یونیورسٹی ایکٹ 2012 کے سیکشن 17-اے کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے فریقین کے مؤقف اور متعلقہ قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔








