اقوام متحدہ۔ 10 اگست (اے پی پی)اقوام متحدہ کے ایک پینل نے موسمیاتی تبدیلیوںکے باعث عالمی حدت میں اضافے سے خوراک کی مستحکم فراہمی متاثرہو سکتی ہے جس کی وجہ سے غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں پر اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل آئی پی سی سی کے عمومی اجلاس میں منظور کردہ رپورٹ میں یہ انتباہ کیا گیا ہے۔ جنیوا میں تین روز جاری …
گلوبل وارمنگ کے باعث خوراک کی فراہمی متاثر ہونے کا امکان ہے،اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔ 10 اگست (اے پی پی)اقوام متحدہ کے ایک پینل نے موسمیاتی تبدیلیوںکے باعث عالمی حدت میں اضافے سے خوراک کی مستحکم فراہمی متاثرہو سکتی ہے جس کی وجہ سے غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں پر اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل آئی پی سی سی کے عمومی اجلاس میں منظور کردہ رپورٹ میں یہ انتباہ کیا گیا ہے۔ جنیوا میں تین روز جاری رہنے والے اس اجلاس میں 52 ملکوں سے ایک سو سے زائد سائنسدانوں نے شرکت کی۔عالمی حدت زمینی علاقوں کو متاثر کرے گی، اس حوالے سے آئی پی سی سی نے پہلی جامع رپورٹ پیش کی ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ صنعتی دور سے پہلے کا سطح زمین کا درجہ حرارت اوسط عالمی درجہ حرارت سے تقریباً دو گنا تک بڑھا ہے۔عالمی حدت کی وجہ سے بیشتر خطوں میں گرمی کی لہر سمیت گرمی سے متعلقہ مظاہر کی تعداد، شدت اور دورانیہ بڑھا ہے۔انہوں نے اس حوالے سے درمیانے درجے کے یقین کا اظہار کیا کہ بحیرہ روم، مغربی افریقا اور جنوبی امریکا کے بیشتر حصوں اور دیگر علاقوں میں خشک سالی کے واقعات اور ان کی شدت بڑھی ہے۔ عالمی پیمانے پر موسلا دھار بارشوں کی شدت بڑھنے کے حوالے سے بھی انہوں نے درمیانے درجے کے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔آئی پی سی سی کا تخمینہ ہے کہ شدید موسمی حالات کے باعث خوراک کی مستحکم فراہمی کم ہو جائے گی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اگر 21 ویں صدی کے اختتام تک عالمیآبادی9 بلین ہو گئی تو 2050ء میں اناج کی قیمت 23 فیصد تک بڑھ جائے گی۔








