اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان ایک مضبوط مو¿قف اپنائے ہوئے ہے اور جس طرح عالمی سطح پر یہ مسئلہ اُجاگر ہو چکا ہے اُس سے اس مسئلہ کے جلد حل کی اُمید پیدا ہو چکی ہے۔ منگل کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جس طرح …
بھارت نام نہاد سیکولر ریاست سے انتہاءپسند ہندو ملک بننے جا رہا ہے جہاں اقلیتوں کےلئے کوئی گنجائش موجود نہیں ہے، وفاقی وزیر علی امین خان گنڈاپور

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان ایک مضبوط مو¿قف اپنائے ہوئے ہے اور جس طرح عالمی سطح پر یہ مسئلہ اُجاگر ہو چکا ہے اُس سے اس مسئلہ کے جلد حل کی اُمید پیدا ہو چکی ہے۔ منگل کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جس طرح نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کے قابل مذمت اقدامات اٹھائے ہیں اُس سے نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے عوام بلکہ بھارت کی تمام اقلیتوں کو اس امر کا بھی واضح ثبوت مل گیا ہے کہ بھارت ایک نام نہاد سیکولر ریاست سے نکل کر انتہاءپسند ہندو ملک بننے جا رہا ہے جہاں اقلیتوں کےلئے کسی قسم کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مودی کے ان اقدامات نے مسئلہ کشمیر کو دُنیا کے تمام عالمی فورمز پر لاکھڑا کیا ہے اور آج پاکستان کی مو¿ثر سفارتکاری کے باعث دُنیا کے اہم ممالک اور لیڈرز مسئلہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور عالمی امن کے حوالہ سے اس دیرینہ مسئلہ کی حساسیت کو اچھی طرح جاننا شروع ہو گئے ہیں۔ علی امین خان گنڈا پور نے کہا کہ راج ناتھ جیسے بھارتی رہنماﺅں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے اس مسئلہ سے متعلق بین الاقوامی حساسیت میں اور بھی اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے اور اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے متاثر نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کی فوجی طاقت کی ساکھ اورصلاحیت سے بخوبی واقف ہے اور جانتا ہے کہ پاکستان کیا کچھ کر نے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن کو ترجیح دیتے ہیں اور بھارت کی گیڈر بھبکیوں کی بجائے آزمانے پر پہلے کی طرح بھارت کو سرپرائز دیں گے۔








