اسلام آباد ۔ 17 ستمبر (اے پی پی)وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ پاکستان قیامت تک قائم رہنے کے لئے بنا ہے‘ ہر کشمیری شہید کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں‘ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سندھو دیش کا بیان افسوسناک ہے‘ کراچی کے کچرے سے ہم سب پریشان ہیں‘ بلاول بھٹو کو اس …
وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کا قومی اسمبلی میں خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 ستمبر (اے پی پی)وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ پاکستان قیامت تک قائم رہنے کے لئے بنا ہے‘ ہر کشمیری شہید کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں‘ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سندھو دیش کا بیان افسوسناک ہے‘ کراچی کے کچرے سے ہم سب پریشان ہیں‘ بلاول بھٹو کو اس مسئلے کا ازالہ کرنا چاہیے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں راجہ پرویز اشرف کی جانب سے تافتان بارڈر پر سہولیات کے حوالے سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ زائرین کی سہولیات کے لئے تافتان بارڈر پر سہولیات کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہم آپ کو دورہ کرانے کے لئے بھی تیار ہیں۔ گوجر خان میں کچرا پھینکنے کے واقعہ پر بھی صوبائی حکومت سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے ایک بیان دیا ہے زبان رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر ہم نے کشمیر پر یک زبان ہوکر آواز اٹھائی اور ہٹلر مودی کا پوری دنیا میں چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ بلاول بھٹو نے سندھو دیش کی بات کی اس پر ہمیں افسوس ہوا۔ کراچی کے کچرے پر ہم سب پریشان ہیں۔ حالیہ بارشوں میں کراچی کے 43 جوان جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کا موازنہ دیگر شہروں سے کیا ہے۔ انہیں کراچی کے مسئلے کا ازالہ کرنا چاہیے۔ لوگ مر رہے ہیں۔ کراچی کچرا کنڈی بن گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا بیان دہرایا ہے۔ ہم کراچی کے لئے کمیٹی بنا کر شہریوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا جواب یہ نہیں دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ غربت سندھ کے اندر ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا دیکھ لیں۔ سب سے زیادہ صحت کی سہولیات سندھ میں کمیاب ہیں۔ کراچی کے فنڈز جعلی اکاﺅنٹس میں منتقل کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قیامت تک قائم رہنے کے لئے بنا ہے۔ ہر کشمیری شہید کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں۔








