وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب سے آئی آیم ایف وفد کی ملاقات ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

اسلام آباد ۔ 20 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب سے آئی آیم ایف مشن چیف جہاد آزور کی زیرِ قیادت وفد نے جمعہ کو یہاں ملاقات کی اور ان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ آئی ایم ایف کے وفد نے بجلی کی قیمتوںمیں کمی کیلئے مقامی وسائل سے بجلی پیداواربڑھانے کی پالیسی کو سراہا۔ پاور ڈویژن سے جاری ہونے …

اسلام آباد ۔ 20 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب سے آئی آیم ایف مشن چیف جہاد آزور کی زیرِ قیادت وفد نے جمعہ کو یہاں ملاقات کی اور ان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ آئی ایم ایف کے وفد نے بجلی کی قیمتوںمیں کمی کیلئے مقامی وسائل سے بجلی پیداواربڑھانے کی پالیسی کو سراہا۔ پاور ڈویژن سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف مشن چیف نے کہا کہ پاکستان کے بجلی کے شعبہ کی کارکردگی حوصلہ افزا ہے۔ اہداف کے حصول کیلئے پاور ڈویژن کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے قابل تجدید توانائی پالیسی تیار کرنے کیلئے بھی پاور ڈویژن کی کوششوں کی تعریف کی۔ وفاقی وزیر بجلی نے آئی ایم ایف وفد کو بجلی کے شعبہ کی کامیابیوں کے حوالہ سے آگاہ کیا اور وصولیوں میں اضافہ اور لائن لاسز میں کمی کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے آخر میں ماہانہ 38 ارب روپے بڑھنے والے گردشی قرضے کو 26 ارب روپے پر لے آئے جبکہ رواں مالی سال جولائی میں گردشی قرضہ کو مزید کم کرکے 18 ارب روپے پر لایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی چوروں کے خلاف مہم کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے آئی ایم ایف وفد کو پاور سسٹم کی بہتری کیلئے کئے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کنڈے کے ذریعے بجلی چوری والے علاقوں میں اے بی سی کیبلز لگائی جا رہی ہیں، جن علاقوں میں میٹر کے ذریعے چوری ہوتی ہے وہاں اے ایم آئی میٹر لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 80 فیصد فیڈرز پر لوڈ مینجمنٹ نہیں کی جا رہی، اب ہم ڈسٹری بیوشن سسٹم کی بہتری پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مقامی وسائل سے سستی بجلی پیداوار بڑھانے کیلئے نئی قابل تجدید توانائی پالیسی لا رہے ہیں، مقامی وسائل سے بجلی پیداوار 75 فیصد تک لانا چاہتے ہیں، بجلی پیداوار کیلئے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کریں گے۔

مزید خبریں