نیویارک ۔ 24 ستمبر (اے پی پی) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں استحکام اور خوشحالی کو کشمیر سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 80 لاکھ افراد محصور ہیں۔ خطے کے محفوظ …
جنوبی ایشیا میں استحکام اور خوشحالی کو کشمیر سے الگ نہیں کیا جاسکتا،ترک صدر رجب طیب اردوان

مزید خبریں
نیویارک ۔ 24 ستمبر (اے پی پی) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں استحکام اور خوشحالی کو کشمیر سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 80 لاکھ افراد محصور ہیں۔ خطے کے محفوظ مستقبل کی خاطر ضروری ہے کہ 72 سال پرانے مسئلے کو جھگڑے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ترکی کے صدر ایردوان نے اپنے خطاب میں کشمیر کے تنازع پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہئیے۔ مذاکرات انصاف اور برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔انہوں نے بین الاقوامی برادری کی طرف سے تنازع کشمیر پر توجہ نہ دینے پر تنقید کی اور کہا کہ یہ مسئلہ گزشتہ 72 برسوں سے حل طلب ہے۔ اپنے خطاب میں کہا کہ جوہری طاقت پر یا تو دنیا بھر کے ممالک کے لئے پابندی لگا دی جانی چاہئے یا پھر تمام ممالک کو یہ حق حاصل ہونا چاہئیے کہ وہ جوہری صلاحیت حاصل کر سکیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ چند ممالک کی طرف سے جوہری صلاحیت برقرار رکھنے سے عدم مساوات پیدا ہوا ہے جس نے دنیا بھر میں عدم توازن پیدا کر دیا ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوان نے جنرل اسمبلی کے 74 ویں سالانہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جنگوں کے منفی اثرات آج بھی دنیا بھر میں عدم استحکام ، بدامنی اور غربت کی صورت میں دیکھے جا رہے ہیں۔ جنگوں کے باعث شام، لیبیا، افغانستان اور یوکرین سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ملکوں میں جنگوں اور مسائل کے باعث ترکی کو لاکھوں پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔مسئلہ فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ دو ریاستی حل کی جانب بڑھنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اور اب یہ اس حل پر عمل کرنے کا وقت ہے۔انہوں نے اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن کی نمائندگی کرتا ہے ، اپنے غیر انسانی اقدامات کو اسلام کے طور پر پیش کرنے والے اسلام اور پوری انسانیت کی توہین کر رہے ہیں۔








