اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) جدید تحقیق سے استفادہ کے ذریعے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے مقابلہ میں چین میں کپاس کی 2.6 گنا زائد پیداوار حاصل کی جارہی ہے۔ زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ ملک میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار کے فروغ کے لئے جدید ٹیکنالوجی و تحقیق سے استفادہ کی ضرورت ہے تاکہ فی ایکڑ …
پاکستان کے مقابلہ میں چین میں کپاس کی 2.6 گنا زیادہ پیداوار حاصل کی جارہی ہے ملک میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار کے فروغ کے لئے جدید ٹیکنالوجی و تحقیق سے استفادہ کی ضرورت ہے،زرعی ماہرین

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) جدید تحقیق سے استفادہ کے ذریعے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے مقابلہ میں چین میں کپاس کی 2.6 گنا زائد پیداوار حاصل کی جارہی ہے۔ زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ ملک میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار کے فروغ کے لئے جدید ٹیکنالوجی و تحقیق سے استفادہ کی ضرورت ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار کو بڑھایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اوسط فی ہیکٹر پیداور 560 کلو گرام حاصل ہو رہی ہے جبکہ بھارت میں یہ شرح 516 کلو گرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں کپاس کی زیادہ تر کاشت کاری بارانی علاقوں میں کی جاتی ہے جس کی وجہ سے پیداور کم ہے جبکہ پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں کپاس کی فصل کو باقاعدہ آبپاشی کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق سے استفادہ کے ذریعے ہی فی ایکڑ پیداوار بڑھاجاسکتی ہے۔








