یمن میں ستمبر کے دوران 388 شہری ہلاک و زخمی ہوئے، بدترین مہینہ ثابت ہوا ،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ ۔ 18 اکتوبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر مارک لوکاک نے کہا کہ یمن میں جاری لڑائی کے دوران گزشتہ ماہ ستمبر میں 388 یمنی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔انھوں نے کہاکہ ستمبر کا مہینہ یمن کے لئے شہری ہلاکتوں کے لحاظ سے بدترین رہا ۔ یہ بات انہوں نے یمن کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے …

اقوام متحدہ ۔ 18 اکتوبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر مارک لوکاک نے کہا کہ یمن میں جاری لڑائی کے دوران گزشتہ ماہ ستمبر میں 388 یمنی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔انھوں نے کہاکہ ستمبر کا مہینہ یمن کے لئے شہری ہلاکتوں کے لحاظ سے بدترین رہا ۔ یہ بات انہوں نے یمن کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس میںبریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے یمن میں جاری دنیا کے بدترین انسانی بحران کے باعث اپنے امدادی آپریشنز بڑھا دیئے ہیں، وہاں250 ہیومنٹیرینز ادارے 12 ملین سے زیادہ افراد کو امداد دینے میں مصروف ہیں لیکن حالات مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ در حقیقت ہمیں یمن میں اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم جتنی زیادہ کامیابی حاصل کریں گے ، بحران اتنا ہی بڑا اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 سے زیادہ ایکٹو فرنٹ لائنز کی مدد سے ہم صرف اْمید کر سکتے ہیں کہ عدم استحکام کی طرف حالیہ اقدامات جاری رہیں گے ۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر یمن میں جنگ بندی اور بین الاقوامی انسانی قوانین کو یقینی بناتے ہوئے شہریوں اور بنیادی شہری ڈھانچے کے تحفظ پر زور دیا۔

مزید خبریں