لاہور ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) انٹیرئرز پاکستان نمائش ایکسپو سنٹر لاہور میں22 نومبر سے شروع ہوگی، اس گیارہویں 3 روزہ نمائش میں 30 سے زائد غیر ملکی کمپنیاں اپنی فرنیچر مصنوعات پیش کریں گی۔ پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے اتوار کو یہاں فرنیچر مینوفیکچررز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین ، اٹلی ، برطانیہ ، ترکی ، ہانگ کانگ اور تھائی …
پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق کی فرنیچر مینوفیکچررز کے وفد سے گفتگو

مزید خبریں
لاہور ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) انٹیرئرز پاکستان نمائش ایکسپو سنٹر لاہور میں22 نومبر سے شروع ہوگی، اس گیارہویں 3 روزہ نمائش میں 30 سے زائد غیر ملکی کمپنیاں اپنی فرنیچر مصنوعات پیش کریں گی۔ پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے اتوار کو یہاں فرنیچر مینوفیکچررز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین ، اٹلی ، برطانیہ ، ترکی ، ہانگ کانگ اور تھائی لینڈ کے وفود نے نمائش میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ رواں ماہ کے آخری ہفتے تک دیگر ممالک بھی شرکت کی تصدیق کر دیں گے, امید ہے کہ 70 سے زیادہ بڑی مقامی کمپنیاں اور انٹیرئر ڈیزائنرز اپنی مصنوعات کی نمائش کریں گے جبکہ دو سے اڑھائی لاکھ افراد اس میگا نمائش کو دیکھنے کے لیے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیرئرز پاکستان نمائشوں کا مقصد پاکستان میں تیار کردہ فرنیچر مصنوعات کا مقامی اور بین الاقوامی سطح پر فروغ ہے اور یہ ملک میں بین الاقوامی تجارتی نمائشوں کے آغاز کی جانب ایک اہم قدم ہے ، اس سے بین الاقوامی نمائشوں میں پاکستان کی شرکت اور اس شعبے میں باپمی تعاون کو فروغ دینے کی راہیں بھی کھلیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فرنیچر انڈسٹری میں فروغ کی بڑی گنجائش ہے اور انٹیرئرز پاکستان کے ذریعے ملک میں دستیاب اس مہارت اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع ملے گا۔ نمائش میں نوجوان ڈیزائنرز اور آرکٹیکٹس کو مارکیٹ رجحانات دیکھنے اور پیشہ ور افراد کے ساتھ اپنی مصنوعات اور کام کی نمائش کا موقع میسر آئے گا۔ پی ایف سی کے سربراہ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ انٹیرئرز پاکستان کا مقصد ملک بھر میں فرنیچر کی نمائشوں کے لیے رجحان پیدا کرنا ہے کیونکہ قومی نمائشیں مقامی پروڈیوسروں کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور نئی منڈیوں کی تلاش کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فرنیچر انڈسٹری ہر سطح پر بڑی صلاحیت کی حامل ہے اور اس کا فروغ جی ڈی پی میں نمایاں نمایاں اضافے کا باعث بن سکتا ہے جبکہ مختلف مہارتوں کے حامل افراد کیلئے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت میں اہم کردار کے باوجود فرنیچر مینوفیکچرنگ کی اہمیت کو سیاسی سطح پر تسلیم نہ کیا جانا پی ایف سی کیلئے باعث تشویش ہے، پی ایف سی مزید ممالک میں پاکستانی فرنیچر مصنوعات کی دستیابی کو فروغ دینے اور پاکستانی فرنیچر ڈیزائنرز اور مینوفیکچررز کو بین الاقوامی مارکیٹ میں داخل ہونے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پر عزم ہے تاہم خام مال کی فراہمی کو یقینی بنانے، مہارتوں اور کوالٹی کنٹرول کی ٹریننگ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی ہنرمند بین الاقوامی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق فرنیچر مصنوعات تیار کر سکیں۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا ملک میں فرنیچر کی طلب کا 80 فیصد سے زائد چنیوٹی فرنیچر سے پورا ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دستکاری اور فرنیچر کی صنعت مشترکہ طور پر تقریبا 50 ہزار افراد کو روزگار فراہم کر رہے ہیں اور اگر مقامی صنعت کو فروغ دیا جائے تو روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فرنیچر کی درآمد قیمتی زرمبادلہ کا ضیاع ہے جبکہ اس سے مقامی فرنیچر انڈسٹری میں بے روزگاری کا خدشہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اس صنعت کے تحفظ کے لئے فرنیچر کی درآمد پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے تاکہ اس کے پوٹینشل سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔








