لاہور ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے خطے میں معاشی انضمام کے لیے دستیاب تمام تجارتی مواقع اور سرمایہ کاری کی صلاحیتوں اور اس کے سٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع سے مکمل استفادہ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ کولمبو سے موصولہ پیغام کے مطابق اتوار کو سارک چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 78 ویں اجلاس کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے …
سارک چیمبرکی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے سینئر نائب صدر و پاکستانی وفد کے سربراہ افتخار علی ملک کا خطاب

مزید خبریں
لاہور ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے خطے میں معاشی انضمام کے لیے دستیاب تمام تجارتی مواقع اور سرمایہ کاری کی صلاحیتوں اور اس کے سٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع سے مکمل استفادہ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ کولمبو سے موصولہ پیغام کے مطابق اتوار کو سارک چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 78 ویں اجلاس کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وفد کے سربراہ اور سارک چیمبر کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک نے کہا کہ سارک ممالک کو تجارت کے فروغ کیلئے نان ٹیرف رکاوٹوں (این ٹی بی) کے خاتمے اور بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) روابط بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سارک خطے میں تجارت اور سرمایہ کاری کا پوٹینشل بہت زیادہ ہے اور یہ دنیا کی 21 فیصد آبادی کا مسکن ہے لیکن یہ ابھی تک دنیا کے سب سے کم مربوط علاقائی بلاکس میں سے ایک ہے جس کی علاقائی تجارت کا عالمی تجارت میں حصہ صرف 5 فیصد ہے جبکہ اس کے مقابل نافا کا حصہ51 فیصد اور آسیان کا حصہ 25 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں علاقائی تجارت کی مجموعی صلاحیت کے 55 فیصد پوٹینشل کو ابھی تک پوری طرح سے استعمال میں ہی نہیں لایا گیا، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تحقیق و ترقی کے تبادلے کے مشترکہ وژن کے ذریعے ہی اس صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سارک ممالک کے درمیان پیچیدہ حفاظتی اقدامات اور نان ٹیرف رکاوٹوں کی وجہ سے سافٹا ( ساﺅتھ ایشیا فری ٹریڈ ایگریمنٹ ) بھی توقعات کے مطابق سودمند ثابت نہیں ہو سکا۔ افتخار ملک نے کہا کہ تمام 8 رکن ممالک کی سرکردہ کاروباری شخصیات کا خیال ہے کہ کاروباری برادری کے درمیان قریبی تعاون علاقائی انضمام کے لیے لازمی ہے اور اسی میں تمام سٹیک ہولڈرز کا مفاد ہے، سارک چیمبر کا مقصد بھی جنوبی ایشیا میں کاروباری آسانیاں پیدا کرنا اور خطے کے علاوہ باہر کے سرمایہ کاروں کو سارک ممالک میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ اس طرح ہی ہم نوجوانوں کے لئے نئی ملازمتوں کی تخلیق اور غربت کے خاتمے جیسے بڑے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے جنوبی ایشیا کی لیڈرشپ کو اپنی سوچ سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنا ہوں گے اور انہیں یہ بات ذہن میں رکھنا ہوگی کہ وہ دنیا کے غریب ترین ممالک کے حکمران ہیں اور خطے کو غربت سے نجات دلانا ہی ان کا مشن ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی بدامنی دنیا بھرکا مسئلہ ہے لہذا بزنس کمیونٹی کو اس سے آگے بڑھتے ہوئے اور غیر متوازن سیاسی حالات سے ہٹ کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ رکاوٹوں کے باوجود سارک چیمبر خطے میں کاروباری ماحول کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہے اور اس کے اس کردار کو ناقدین نے بھی سراہا ہے۔ عالمی معیشت میں جنوبی ایشیا کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روان ایدیرے سنگھے کی متحرک قیادت میں سارک چیمبر نے تجارت ، مالیات ، غربت کے خاتمے ، انسانی وسائل کی ترقی ، خواتین کو بااختیار بنانے ، بچوں کی بہبود ، دیہی ترقی ، انسداد دہشت گردی ، انسداد منشیات اور ماحولیات سمیت متعدد شعبوں میں قابل ذکر پیشرفت کی ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر دارو خان اچکزئی ، حمید اختر چڈھا ، زبیر ملک ، سیکرٹری جنرل حنا سعید اور ڈپٹی سیکرٹری ذوالفقار بٹ کے علاوہ نیپال، افغانستان، سری لنکا، بنگلہ دیش سے اعلی سطح کے مندوبین اور دیگر ممبران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔







