اسلام آباد ۔ 28 اکتوبر (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا نے اہم بین الاقوامی امور کے حوالے سے یکساں موقف اختیار کیا ہوا ہے، گوادر خطے کی رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کرے گا، مقبوضہ کشمیر میں طویل کرفیو سے انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے، بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا فوری نوٹس لے۔ ان خیالات کااظہار …
پاکستان اور آسٹریلیا نے اہم بین الاقوامی امور پر یکساں مؤقف اختیار کیا ہوا ہے، چیئرمین سینیٹ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 اکتوبر (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا نے اہم بین الاقوامی امور کے حوالے سے یکساں موقف اختیار کیا ہوا ہے، گوادر خطے کی رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کرے گا، مقبوضہ کشمیر میں طویل کرفیو سے انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے، بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا فوری نوٹس لے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کو آسٹریلین ہائی کمشنر ڈاکٹر جیو فیری شا کی سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو اور دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیاگیا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ حکومت اور پارلیمنٹ کی سطح پر پاکستان اور آسٹریلیا کے بہترین تعلقات ہیں، دونوں ملکوں کے مابین پارلیمانی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا نے اہم بین الاقوامی امور کے حوالے سے یکساں موقف اختیار کیا ہواہے، دونوں ملکوں کے مابین تجارتی تعاون اور سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت ہے، تعلیم اور خاص طور پر انجینئرنگ کے شعبے میں موجود مثالی تعاون کو مزید تقویت دی جاسکتی ہے، پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین تعلیم، کان کنی اور دیگر شعبوں میں تعاون کوو سعت کی گنجائش موجود ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ گوادر خطے کی رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کرے گا۔ آسٹریلیا کے سرمایہ کار گوادر میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ گوادر کا ماسٹر پلان منظور ہوگیا ہے ترقیاتی عمل تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے آسٹریلین ہائی کمشنر کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ طویل کرفیو سے انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا فوری نوٹس لے۔ بھارت انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہے۔ ملاقات میں آسٹریلین ہائی کمشنر نے کہا کہ مسئلے کا پر امن حل مذاکرات سے ممکن ہے۔ آسٹریلیا کان کنی اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔








