اسلام آباد ۔ 31 اکتوبر (اے پی پی) چین نے مقبوضہ کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام دو علیحدہ خطوں میں تقسیم کرنے سے متعلق بھارتی فیصلہ پر سخت ردعمل اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر قانونی، غلط اور غیر مؤثر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر اپنے ملکی قوانین اور انتظامی ڈویژنز میں تبدیلیاں کرکے چین کی خود مختاری کو چیلنج …
چین کا مقبوضہ کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام دو علیحدہ خطوں میں تقسیم کرنے سے متعلق بھارتی فیصلہ پر سخت ردعمل اور ناراضگی کا اظہار چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ کی ہفتہ وار بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 31 اکتوبر (اے پی پی) چین نے مقبوضہ کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام دو علیحدہ خطوں میں تقسیم کرنے سے متعلق بھارتی فیصلہ پر سخت ردعمل اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر قانونی، غلط اور غیر مؤثر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر اپنے ملکی قوانین اور انتظامی ڈویژنز میں تبدیلیاں کرکے چین کی خود مختاری کو چیلنج کیا ہے، بھارت کے اس اقدام سے حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے جمعرات کو بیجنگ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت کا یہ اقدام غیر قانونی ہے اور یہ کسی بھی طریقے سے اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا کہ یہ علاقہ حقیقت میں چین کے زیر کنٹرول ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت نے سرکاری سطح پر مقبوضہ کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام نام نہاد جموں و کشمیر اور لداخ کے نام سے دو الگ خطوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں چینی حدود کے بعض علاقے بھی شامل کر دیئے گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ چین اس اقدام کو مسترد اور بھرپور مخالفت کرتا ہے۔ ترجمان نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ نئی دہلی چین کی علاقائی خودمختاری کا احترام اور سرحدی علاقوں میں امن و امان کے قیام کیلئے ساز گار حالات پیدا کرے۔ کشمیر سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ مسلہ کشمیر کے حوالے سے چین کا مؤقف واضح ہے، یہ تاریخ سے ورثے میں ملی ایک تنازعہ ہے اور اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق پرامن طور پر اور متعلقہ فریقوںکو مذاکرات اور مشاورت سے حل کرنا چاہئے۔ پاکستان اور چین کے مابین سدا بہار سٹرٹیجک شراکت داری سے متعلق ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور چین سدا بہار سٹرٹیجک پارٹنرز ہیں اور ہمارا تعاون مستحکم بنیادوں پر قائم ہے۔








