مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 91ویں روزبھی فوجی محاصرے کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج

سرینگر ۔ 03 نومبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل91ویں روز بھی فوجی محاصرے اور مواصلاتی ذرائع کی بندش کی وجہ سے وادی کشمیر اورجموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج رہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انٹرنیٹ اورپری پیڈ موبائل فون سروسزمعطل اورپبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی۔ پانچ اگست کودفعہ 370کے خاتمے سے اب تک کشمیر ایوان صنعت وتجارت کو 15ہزار کروڑ روپے کا نقصان …

سرینگر ۔ 03 نومبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل91ویں روز بھی فوجی محاصرے اور مواصلاتی ذرائع کی بندش کی وجہ سے وادی کشمیر اورجموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج رہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انٹرنیٹ اورپری پیڈ موبائل فون سروسزمعطل اورپبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی۔ پانچ اگست کودفعہ 370کے خاتمے سے اب تک کشمیر ایوان صنعت وتجارت کو 15ہزار کروڑ روپے کا نقصان اٹھا نا پڑا ہے۔مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے وادی کشمیر میں آئی ٹی صنعت کی کمرٹوٹ چکی ہے اورآئی ٹی سے وابستہ 25ہزار پیشہ ور افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔ وادی کشمیر میں 31اکتوبر سے جب سے بھارت نے باضابطہ طورپرجموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی ہے، متعدد احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ قابض انتظامیہ نے تاجروں ، صحافیوں ، وکلائ اور سیاسی رہنماؤں اور کاکنوں پر مشتمل 450افراد کی فہرست تیار کی ہے جن کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔یہ فہرست5اگست کو جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم اور اس کو دو یونین ٹیریٹوریزمیں تقسیم کئے جانے کے بعد تیار کی گئی ہے۔دریں اثناء گلف نیوز نے اپنے ایڈیشن میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن مسلسل جاری ہے اورلوگوں کو انٹرنیٹ تک کوئی رسائی نہیں ہے۔ ایوارڈ یافتہ صحافی اورمصنف سویتی چترویدی کی طرف سے لکھے گئے مضمون میںکہا گیا کہ بڑھتی ہوئی تشویش میں مبتلا دنیا نے مودی حکومت سے یہ پوچھنا شروع کردیا ہے کہ شہریوں کو محصور کرنا کس طرح جمہوریت سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ مودی حکومت کے پاس مسلم اکثریتی علاقے جموںوکشمیر کے لیے کوئی حتمی حل نہیں ہے۔ مضمون میںکہاگیا کہ دفعہ 370کے خاتمے کے بھارتی حکومت کے فیصلے سے تنازعہ کشمیر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ مضمون میں انتہائی دائیں بازو کے ارکان یورپی پارلیمنٹ کے دورہ کشمیرکو خارجہ پالیسی کے لیے تباہ کن قراردیتے ہوئے کہاگیا کہ دورہ یورپی ارکان پارلیمنٹ کے غبارے سے اس وقت ہوانکل گئی جب جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے دورہ بھارت کے دوران بالکل واضح موقف اختیارکرتے ہوئے کہاکہ کشمیر کی صورتحال غیر مستحکم ہے اور لاک ڈا?ن کوئی اچھا اقدام نہیں ہے۔ کشمیرکونسل یورپ کے چیئرمین علی رضا سید نے جنیوا میں بین الاقوامی سکھ کنونشن سے خطا کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی حکام نے 35سال پہلے سکھوں کا قتل عام کیا تھا اور اب مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی کررہے ہیں۔

مزید خبریں