معیشت کو استحکام دینے کے بعد ہم اگلے مرحلہ میں داخل ہو رہے ہیں،حماد اظہر

اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے ''کارکے'' تنازعہ کے خوش اسلوبی سے حل پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی کوششوں اور توجہ سے یہ مسئلہ حل ہوا، جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حسابات جاریہ کے خسارہ میں گذشتہ سال کے مقابلہ میں …

اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے ”کارکے” تنازعہ کے خوش اسلوبی سے حل پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی کوششوں اور توجہ سے یہ مسئلہ حل ہوا، جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حسابات جاریہ کے خسارہ میں گذشتہ سال کے مقابلہ میں 64 فیصد کمی آئی ہے، مالی خسارہ میں پہلی سہ ماہی کے دوران 50 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، پرائمری بجٹ بیلنس کے ضمن میں تین ماہ کے عرصہ میں 285 ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوئی، اسی طرح فارن پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں 137 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، ایف بی آر سے ملازمین کو فارغ نہیں کیا جا رہا، معیشت کو استحکام دینے کے بعد ہم اگلے مرحلہ میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ہمیں مزید خوشخبریاں ملیں گی۔ منگل کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے ”کارکے” کے تنازعہ کے حل پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی کوششوں اور توجہ سے یہ مسئلہ حل ہوا، ”کارکے” کے حوالہ سے معاہدہ 40 سال قبل پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا تھا جس کو اپوزیشن نے چیلنج کیا تھا۔ بعد ازاں یہ معاملہ بین الاقوامی تنازعات کے تصفیہ کیلئے قائم سنٹر میں گیا جس میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر جرمانہ ہوا۔ 18 ممالک نے قانونی چارہ جوئی شروع کی تھی تاہم موجودہ حکومت کی کوششوں سے یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوا، حکومت نے پاکستان کے مؤقف کو مقدم رکھا اور یہ مسئلہ حل ہوا جس پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔ موجودہ حکومت کی اقتصادی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حسابات جاریہ کے خسارہ میں گذشتہ سال کے مقابلہ میں 64 فیصد کمی آئی ہے، مالی خسارہ میں پہلی سہ ماہی کے دوران 50 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، پرائمری بجٹ بیلنس کے ضمن میں تین ماہ کے عرصہ میں 285 ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوئی، اسی طرح فارن پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں 137 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، گذشتہ تین سالوں میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی میں جا رہی تھی۔ حماد اظہر نے کہا کہ 2017ء کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر 500 ملین ڈالر ماہانہ کے حساب سے گر رہے تھے، جنوری 2019ء سے صورتحال میں استحکام آ رہا ہے، جون کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر میں 650 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اس حقیقت کے باوجود ہوا کہ ہمیں ماضی میں لئے گئے قرضوں کی قسطیں اور سود بھی ادا کرنا پڑ رہا ہے، گذشتہ سال ساڑھے 10 ارب ڈالر کا قرض ادا کیا اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کے استحکام اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیلئے جو اقدامات کئے اس کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آ رہے ہیں، گذشتہ سال کے مقابلہ میں رواں سال فائلر کی تعداد میں 55 فیصد اضافہ ہوا ہے، اندرونی محصولات میں بھی 25 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمیں حکومت ملی تو بجلی اور توانائی کا نظام مفلوج ہو چکا تھا، گردشی قرضہ ساڑھے 400 ارب روپے سے 1200 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا، موجودہ حکومت نے اس میں خاطر خواہ کمی کی ہے اور دسمبر تک گردشی قرضہ کو صفر تک لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانیوں کے حوالہ سے پاکستان کی عالمی رینکنگ میں 28 پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے جو حکومت کی سرمایہ کاری اور تاجر دوست پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے، سٹاک مارکیٹ میں اگست سے لے کر اب تک 6 ہزار 500 پوائنٹ کا اضافہ ہوا ہے، گذشتہ تین دنوں میں انڈیکس میں 1500 پوائنٹ کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی استحکام کے ساتھ ساتھ ترقی کے عمل کو آگے لے جانے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کیلئے فنڈز کے اجراء میں دگنا اضافہ ہوا ہے، حکومت برآمدات میں اضافہ کیلئے کام کر رہی ہے، مالی سال کی پہلی سہ میں ریڈی میڈ گارمنٹس، بیڈ ویئرز، چاول میں بالترتیب 36، 23.8 اور 52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ہمیں مستقبل میں ایک مضبوط بڑھوتری نظر آ رہی ہے۔

مزید خبریں