اسلام آباد ۔ 6 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا ٹریک ریکارڈ ایسا ہے کہ وہ بند گلی میں نہیں جاتے، راستے کھلے رکھتے ہیں، امید ہے کہ دھرنے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا، موسم بھی نازک ہے، وہ ربیع الاول کے تقدس اور احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے جلد از جلد دھرنے کو …
رحمة اللعالمینۖ کانفرنس کے بعدریاست مدینہ کا تصور اجاگر کرنے والی تجاویز تیار کریں گے وفاقی وزیر مذہبی امور

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا ٹریک ریکارڈ ایسا ہے کہ وہ بند گلی میں نہیں جاتے، راستے کھلے رکھتے ہیں، امید ہے کہ دھرنے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا، موسم بھی نازک ہے، وہ ربیع الاول کے تقدس اور احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے جلد از جلد دھرنے کو منطقی انجام تک پہنچائیں، مولانا فضل الرحمن ہمیں ناموس رسالتۖ کا مخالف اور خود کو اس کا ٹھیکیدار کہتے ہیں جو زیادتی ہے، کرتارپور راہداری کے افتتاح سے ساری دنیا کی اقلیتوں کو پاکستان کی طرف سے مثبت پیغام جائے گا، رحمة اللعالمینۖ کانفرنس کے بعد ایسی تجاویز تیار کریں گے جس سے ریاست مدینہ کا تصور اجاگر ہو گا۔ بدھ کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے خیبرپختونخوا میں اسلامی نظام کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں، پی ٹی آئی حکومت پاکستان کو اس کے اصل روحانی اور دینی اساس کی طرف لوٹانا چاہتی ہے جس کا تصور اقبال نے پیش کیا اور قائداعظم نے نظریہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم ریاست مدینہ سے دور رہیں گے کامیابی ممکن نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ناموس رسالتۖ کا دفاع کرنے والی جماعت ہے، رحمة اللعالمینۖ کانفرنس اتوار کو ہو گی جس میں مصر، سعودی عرب، ایران، عراق، فلسطین، تیونس اور شام سے علماء کرام کو مدعو کیا گیا ہے، ان علماء کرام سے ہم رہنمائی لینا چاہتے ہیں تاکہ ریاست مدینہ کے تصور کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا موضوع ریاست مدینہ کا تصور حضورۖ کی تعلیمات کی روشنی میں رکھا گیا ہے، اس موضوع پر 70 مقالات اور کتب سیرت کو انعامات کیلئے منتخب کیا گیا ہے، کانفرنس کے بعد ہم ایسی تجاویز تیار کریں گے جس سے ریاست مدینہ کے تصور کو اجاگر کیا جا سکے گا۔ 9 نومبر کو کرتارپور راہداری کا افتتاح ہے، تمام مذاہب کو پرامن پیغام دینے سے ریاست مدینہ کے تصور کو تقویت ملے گی، اس سے مذہبی رواداری پیدا ہو گی اور اس سے تمام اقلیتوں کو ہماری طرف سے مثبت پیغام جائے گا، کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر ساری دنیا سے سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے یاتری آ رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے دھرنے میں باقی جماعتیں نظر نہیں آ رہیں، فضل الرحمن سے درخواست ہے کہ موسم نازک ہے، ربیع الاول کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے دھرنے کو جلد انجام تک پہنچائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے تعلقات کے حوالہ سے اگر ثبوت ہے تو سامنے لائیں، یہ صرف وہمہ ہے، سیاست کے ذریعے اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کا مطلب ہاتھ کاٹنا نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس سے بہترین معیشت کے ذریعے لوگوں کو غلط راستے یا چوری کی طرف جانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو، اسلامی نظریاتی کونسل سے ہم نے کہا ہے کہ ان کی سفارشات میں جو بھی قابل عمل تجاویز ہیں، سامنے لائی جائیں، ہم ان پر عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین کے شکرگزار ہیں جو بیماری کے باوجود بطور اتحادی ماحول بہتر بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دھرنے والوں کی استعفیٰ کی ڈیمانڈ ایسی خواہش ہے کہ 15، 20 ہزار لوگ آ جائیں تو استعفیٰ نہیں دیا جا سکتا، الیکشن کمیشن کو اتنا مضبوط بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ خود فیصلہ کرے کہ فوج کی زیر نگرانی انتخابات کرانے ہیں یا نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کا ٹریک ریکارڈ ایسا ہے کہ وہ بند گلی میں نہیں جاتے، راستے کھلے رکھتے ہیں، امید ہے کہ دھرنے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا، بارش کی وجہ سے دھرنے کے شرکاء کا ہمیں بھرپور احساس ہے کہ ان کا کیا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کو مذہبی کارڈ نہیں کھیلنا چاہئے، اپنا منشور لائیں، ہمیں ناموس رسالتۖ کا مخالف اور خود کو اس کا ٹھیکیدار کہنا زیادتی ہے، میں نے بھی مدرسہ میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی ہے، میں بھی عاشق رسولۖ ہونے کا دعویدار ہوں۔








