برسلز ۔ 14نومبر(اے پی پی) یورپ میں قائم ایک ڈس انفارمیشن واچ ڈاگ نے بھارت کے سفارتی مفادات کیلئے لابنگ کرنے والے تھینک ٹینکس ، این جی اوز اور جعلی میڈیا گروپوں سمیت غیرفعال کمپنیوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب کیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یورپی یونین کے ممالک اور اداروںمیں جھوٹی خبروں اور اطلاعات کے ذریعے کی جانیوالی منظم کوششوں کو بے نقاب کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ای …
مقبوضہ کشمیرمیں معمولات زندگی مسلسل 102ویں روز بھی مفلوج

مزید خبریں
برسلز ۔ 14نومبر(اے پی پی) یورپ میں قائم ایک ڈس انفارمیشن واچ ڈاگ نے بھارت کے سفارتی مفادات کیلئے لابنگ کرنے والے تھینک ٹینکس ، این جی اوز اور جعلی میڈیا گروپوں سمیت غیرفعال کمپنیوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب کیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یورپی یونین کے ممالک اور اداروںمیں جھوٹی خبروں اور اطلاعات کے ذریعے کی جانیوالی منظم کوششوں کو بے نقاب کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ای یو ڈس انفولیب نے 65 ممالک کے 265 ایسے جعلی میڈیا گروپوں کا پتہ لگایا ہے جویورپی یونین اور اقوام متحدہ میں بھارت کے جغرافیائی سیاسی مفادات کیلئے کام کررہے ہیں اور مسلسل پاکستان کو نشانہ بنار ہے ہیں ۔ اس مہم کا مقصد بھارت کے 5 اگست کے اقدام کی بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کرنا ہے ۔ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے وادی کشمیرکے حالیہ متنازعہ دورے کو تھینک ٹینکس ، غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا گروپوںکے بین الاقوامی نیٹ ورک سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔ادھرمقبوضہ کشمیر میںآج مسلسل 102 ویں دن بھی بھارتی فوجی لاک ڈاﺅن جاری رہنے کے باعث وادی کشمیر اور جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں معمولات زندگی بدستور مفلوج ہیں۔ دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں نافذ ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر لینڈ لائن ٹیلی فون کام کر رہے ہیں اور پوسٹ پیڈ موبائل فون کے ذریعے فوج کالز کی اجازت ہے تاہم انٹرنیٹ سمیت پری پیڈ موبائل سروس اور ایس ایم ایس پر پابندی مسلسل جاری رہنے کے باعث کشمیریوںکو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ وادی میں لوگ مقبوضہ علاقے کی صورتحال کو معمول کے مطابق دکھانے کی بھارت کی کوشش کے خلاف مزاحمت کے طورپرسول نافرمانی کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس دوران دکاندار دن کے بیشتر اوقات اپنی دکانیں بند رکھتے ہیں اور طلبا تعلیمی اداروں سے اورملازمین دفاتر سے دور رہتے ہیں۔ سڑکوںپرزیادہ تر پبلک ٹرانسپورٹ بھی معطل ہے۔دریںاثناءایک رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں جلد ہی تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں کے دوران روبوٹ استعمال کرے گی۔ بھارتی فوج ان روبوٹس کو مقبوضہ کشمیر میں تلاشی کی کارروائیوں کے دوران پہلی دفاعی لائن کے طور پر استعمال کرے گی جو دستی بم سے حریت پسندوںپرحملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بھارتی وزارت دفاع نے کم از کم پچیس برس تک کار آمد رہنے والے تقریباً 550ربورٹس کی خریداری کا عمل شروع کر دیا ہے۔








