ڈائریکٹر جنرل SDMA سعید الرحمان قریشی کی زیر صدارت 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کی یاد میں یکم تا 8 اکتوبر ڈیزاسٹر آگاہی سرگرمیوں کے انعقاد کے حوالہ سے ایک اہم اجلاس ان کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 7اکتوبر کو آگاہی واک اور 8 اکتوبر کی مرکزی تقریب کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔
ڈائریکٹر جنرل ایس ڈی ایم اے سعید الرحمان قریشی کی زیر صدارت 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کی یاد میں یکم تا 8 اکتوبر ڈیزاسٹر آگاہی مہم کاانعقاد

مزید خبریں
مظفر آباد۔ 24 ستمبر (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل SDMA سعید الرحمان قریشی کی زیر صدارت 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کی یاد میں یکم تا 8 اکتوبر ڈیزاسٹر آگاہی سرگرمیوں کے انعقاد کے حوالہ سے ایک اہم اجلاس ان کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 7اکتوبر کو آگاہی واک اور 8 اکتوبر کی مرکزی تقریب کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن نعمان شفیق، ڈائریکٹر ریسکیو 1122 معظم ظفر، مسلم ہینڈز پاکستان، پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی,حمزہ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن، اسلامک ریلیف، سول ڈیفنس کے رضاکاروں، دیگر انسانی ہمدردی کے اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل SDMA سعید الرحمان قریشی نے کہا کہ 8 اکتوبر صرف زلزلہ 2005 کے شہداء کی یاد کا دن نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ڈیزاسٹر آگاہی، تیاری اور مستقبل کے لیے حاصل شدہ اسباق کو عملی اقدامات میں ڈھالنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا تاہم مؤثر تیاری، محفوظ تعمیرات، عوامی آگاہی، بروقت رسپانس اور اداروں کے درمیان مربوط رابطہ کاری کے ذریعے نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کے سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو نئی نسل تک منتقل کرنا اور معاشرے میں Disaster Risk Reduction اور Community Preparedness کا شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے یکم تا 8 اکتوبر مختلف آگاہی پروگرامز، تربیتی سرگرمیوں اور دیگر تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔اجلاس میں شریک انسانی ہمدردی کے اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، سول ڈیفنس کے رضاکاروں اور دیگر شراکت داروں کے نمائندگان نے 8 اکتوبر زلزلہ 2005 کی یاد کو قومی سطح پر منانے اور اسے ایک مؤثر ڈیزاسٹر آگاہی مہم میں تبدیل کرنے کے لیے SDMA کے ساتھ بھرپور تعاون اور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ 8 اکتوبر کی یاد کو محض ماضی کے سانحے کی یاد تک محدود رکھنے کے بجائے مستقبل میں ایک محفوظ، باخبر اور آفات سے نمٹنے کے لیے تیار معاشرے کی تشکیل کے عزم کے طور پر منایا جائے گا۔







