چین اور امریکہ بڑی طاقتوں کے طور پر انسانی ترقی کو آگے بڑھانے کی تاریخی ذمہ داری رکھتے ہیں،چینی صدر
چین اور امریکہ بڑی طاقتوں کے طور پر انسانی ترقی کو آگے بڑھانے کی تاریخی ذمہ داری رکھتے ہیں،چینی صدر

مزید خبریں
نیویارک۔24ستمبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تقریب منعقد کی، جس میں امریکہ کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ امریکہ کے سرکاری دورے پر آ کر انہیں بہت خوشی ہوئی ,صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کی جانب سے پرتپاک میزبانی پر ان کا شکریہ اداکرتا ہوں۔ انہوں نےچینی عوام کی جانب سے امریکی عوام کو خلوصِ دل سے سلام پیش کیا اور امریکہ کی آزادی کی 250ویں سالگرہ پر دلی مبارکباددی۔صدر شی جن پنگ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی دعوت پر ان کا یہ دورہ دوستی کو آگے بڑھانے، تعاون کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے لیے ہے۔چینی صدر نے کہا کہ چین اور امریکہ دو بڑی طاقتوں کے طور پر انسانی ترقی کو آگے بڑھانے کی تاریخی ذمہ داری رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں سال چین کے دورے کے دوران دونوں صدور نے متفقہ طور پر چین-امریکہ تعمیری تزویراتی استحکام پر مبنی تعلقات کی تشکیل پر اتفاق کیا تھا، جسے دونوں ممالک کے عوام اور عالمی برادری کی جانب سے وسیع پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین اور امریکہ کے تعلقات کو مستحکم اور پائیدار انداز میں آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اختلافات کم کر کے باہمی افہام و تفہیم کو فروغ باہمی اعتماد کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے جبکہ خارجہ، اقتصادی، مالیاتی، قانون نافذ کرنے والے اور عوامی و ثقافتی امور سے متعلق اداروں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، یہ درست ہے کہ چین اور امریکہ کا تعاون دنیا کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتا لیکن دونوں ممالک کے تعاون کے بغیر دنیا کے بہت سے مسائل کا حل مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے دروازے کھلے ہیں اور امریکی کمپنیوں کو چین میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے خوش آمدید کہا جائے گا۔ چینی صدر نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی بڑی طاقتیں ہیں اور دونوں ممالک کے پاس اے آئی کو بہتر طور پر ترقی دینے اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کی صلاحیت اور ذمہ داری ہے تاکہ مصنوعی ذہانت انسان کے کنٹرول میں رہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہو۔ چین امریکہ کے ساتھ منشیات کی روک تھام اور قانون کے نفاذ سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔
دونوں ممالک براہِ راست پروازوں کی تعداد میں اضافہ کر سکتے ہیں، جس سے عوامی اور تجارتی تبادلوں کو مزید سہولت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان مسابقت تعمیری اور حدود کے اندر ہونی چاہیے، ایک دوسرے سے بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش ہونی چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے کو شکست دینے کی لڑائی جبکہ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان باقاعدہ مکالمہ جاری رہنا چاہیے اور بحران کے وقت رابطوں اور خطرات کی روک تھام کے نظام کو مزید بہتر بنایا جانا چاہیے۔
چینی صدر نے اعلان کیا کہ چین آئندہ پانچ برسوں کے دوران ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تبادلے اور تعلیم کے لیے چین آنے کی دعوت دے گا۔ انہوں نے یہ خوشخبری بھی سنائی کہ چند ہی دنوں میں پانڈا ’’پنگ پنگ‘‘ اور ’’فو شوانگ‘‘ اٹلانٹا چڑیا گھر میں آباد ہوں گے اور امریکی عوام سے ملیں گے۔انہوں نے چینی اور امریکی عوام کے درمیان دوستی کو مسلسل آگے بڑھانے اور ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دیا۔







