سرینگر ۔ 15 نومبر (اے پی پی) امریکی ارکان کانگریس نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے رکن ٹام لینٹوز کے انسانی حقوق کمیشن کی گزشتہ روزہونی والی سماعت کے دوران تاریخی تناظر میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ارکان کانگریس نے 22اکتوبر کو ہونے والی گزشتہ سماعت کی طرح کے اقدامات …
امریکی ارکان کانگریس کی طرف سے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال پراظہار تشویش

مزید خبریں
سرینگر ۔ 15 نومبر (اے پی پی) امریکی ارکان کانگریس نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے رکن ٹام لینٹوز کے انسانی حقوق کمیشن کی گزشتہ روزہونی والی سماعت کے دوران تاریخی تناظر میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ارکان کانگریس نے 22اکتوبر کو ہونے والی گزشتہ سماعت کی طرح کے اقدامات کی سفارش کی۔ بھارت نے 5 اگست کو یکطرفہ طورپر آئین کی دفعہ 370کو منسوخ کر کے جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے دو یونین علاقوں میں تقسیم کردیا تھا۔ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں 5اگست سے سخت فوجی محاصرہ اور ذرائع مواصلات پر قدغن عائد کر رکھی ہے ۔ مریکی ایوان نمائندگان کی پہلی بھارت نژاد رکن پرمیلا جیاپال نے اس موقع پر کشمیرمیں بھارتی حکومت کے اقدامات پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوںنے کہاکہ وہ چاہتی ہیں کہ کانگریس ایک قرارداد کے ذریعے کشمیر کے بارے میں پالیسیوں پر نظر ثانی کیلئے بھارت کو واضح پیغام دے۔ ان کے ہمراہ شیلا جیکسن لی ، ڈیوڈ ٹرون اور ڈیوڈ سیسیلین بھی موجود تھے جنہوںنے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد کے بھارتی حکومت کے اقدامات پر کڑی تنقید کی ۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی کے بارے میں امریکی کمیشن کی کمشنر ارونیما بھگوانے کہاکہ بھارتی حکومت کے اقدامات کے باعث ملک میںمسلمانوں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں ۔ انہوںنے سماعت کے دوران بتایا کہ بھار ت بھر میں سیاسی رہنماء اور کمیونٹی لیڈر زایک ایسے نظریے پر عمل پیرا ہیں جس کے تحت بھارت کو ایک ہندوریاست میں تبدیل کرنا ضروری ہے اوروہ سمجھتے ہیں ملک میں موجود دیگر اقلیتیں غیر ملکی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک جاری ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں انہوںنے کہاکہ بین الاقوامی مذہبی آزادی کے بارے میں امریکی کمیشن کو جموںوکشمیر میںبھارتی حکومت کی طرف سے آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی اورلوگوںکو عبادت کرنے اور مذہبی تقاریب میں شرکت سے روکنے اور صحت عامہ اور دیگر بنیادی سہولتوں تک لوگوںکی عدم رسائی پر شدید تشویش ہے ۔ ارونیما بھگوانے کہاکہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں موبائیل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کررکھی ہیں اور عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم نہیں کی جارہی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کمیشن کو مساجد بند کئے جانے ، امام صاحبان اور مسلم کمیونٹی لیڈروں کی گرفتاریوںاور عام شہریوں اور تاجروں پر تشدد کی اطلاعات بھی ملی ہیں ۔








