مقبوضہ کشمیرمیں بارشوں اوربرف باری نے بھارتی محاصرے کا شکار کشمیریوںکی مشکلات میں اضافہ کر دیا

سرینگر ۔ 16 نومبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں تازہ برف باری اور بارش کے بعدبڑھتی ہوئی سردی نے کشمیریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جو رواں برس پانچ اگست سے جاری سخت بھارتی فوجی محاصرے کی وجہ سے پہلے ہی سخت مصائب سے دوچار ہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مسلسل محاصرے کے باعث لوگوں کو آنے والے دنوں کے دوران مزید مشکلات کا سامنا کرنا …

سرینگر ۔ 16 نومبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں تازہ برف باری اور بارش کے بعدبڑھتی ہوئی سردی نے کشمیریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جو رواں برس پانچ اگست سے جاری سخت بھارتی فوجی محاصرے کی وجہ سے پہلے ہی سخت مصائب سے دوچار ہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مسلسل محاصرے کے باعث لوگوں کو آنے والے دنوں کے دوران مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیوںکہ وہ سردیوں کے سخت موسم کیلئے اشیائے ضروریہ ذخیرہ نہیں کرسکے ہیں ۔ مقبوضہ وادی کشمیر کو بیرونی دنیا سے ملانے والی واحد سرینگر جموںشاہراہ برف باری کے باعث موسم سرما میں مہینوں بند رہتی ہے۔ مقبوضہ وادی کشمیر اور جموںاور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ہفتہ کو 104ویں روز بھی معمولات زندگی مفلو ج رہے ۔ مقبوضہ علاقے میں دفعہ 144کے تحت پابندیاں برقرار اوربڑی تعداد میں بھارتی فوجی تعینات ہیں ۔انٹرنیٹ، ایس ایم ایس اور پری پیڈ موبائل فون سروسز بدستور معطل ہیں ۔وادی کے لوگ کشمیر مخالف بھارتی اقدامات کے خلاف اپنے غم وغصے کے اظہار کیلئے سول نافرمانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دکاندار دن کے اکثر اوقات اپنی دکانیں بند رکھتے ہیں جبکہ طلباءتعلیمی اداروں میں نہیں جا رہے ۔ دفتروں میں بھی حاضری کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ برف باری اورمٹی کے تودے گرنے کے باعث سرینگر جموں ہائی وے تیسرے روز بھی بند رہی ۔ ٹریفک پولیس کے ایک افسر کے مطابق شاہراہ پر مختلف مقامات پر ڈھائی ہزار کے قریب گاڑیاں پھنس کر رہ گئی ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیم ” ہیومن رائٹس واچ “ کے جنوبی ایشیا کے لئے ایڈووکیسی ڈائریکٹرجان سفٹن نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ ابتر صورتحال پر سخت تشویس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق شدید خطرے میں ہیں۔جان سفٹن نے یہ بات ٹام لانٹوس ہیومن رائٹس کمیشن کو اپنے تحریری بیان میں کہی جس نے کشمیر میں انسانی حقوق کے بارے میں سماعت کی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ارکان کانگریس کو بھارتی حکومتی عہدیداروںکو یہ بات بتانی چاہیے کہ کشمیر میں انکے اقدامات سے انسانی حقوق کے مسائل بڑھ رہے ہیں ۔جان سفٹن نے اپنے تحریری بیان میں مزید کہا کہ امریکی ارکان کانگریس کو اس با ت پر زور دینا چاہیے کہ سیاسی رہنماﺅں اور جبر ی طور پر گرفتارکیے گئے دیگر کشمیریوںکو رہا کیا جانا چاہیے ، مواصلاتی ذرائع پر عائد پابندی ہٹالینی چاہیے اور سفارتکاروں ، غیر ملکی صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت عالمی مبصرین کو آزادانہ طو ر پر کشمیرجانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔لندن میں ایک سیمینار کے مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں 80لاکھ کشمیریوں کو مسلسل محصور رکھنے اور بدترین انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سیمینار کا اہتمام پاکستانی ہائی کمیشن نے کیاتھا اور مقررین میں برطانےہ کے لےے پاکستان کے ہائی کمشنر محمد نفیس ذکریا، ڈاکٹر سید نذیر گیلانی، Ben Emmerson QC, Anthea Mclntyre،پرفیسر نذیر احمد شال، عظمیٰ رسول اور شمیم شال شامل تھیں۔ ادھر بھارت کی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے بنگلورو اور نئی دہلی میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے دفاتر پر چھاپے مارے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے سی بی آئی کے چھاپوں پر اپنے ردعمل میں کہاکہ تنظیم کو بھارت میں انسانی حقو ق کی پامالیوں کے خلاف آواز اٹھانے پرنشانہ بنایا جارہا ہے۔

مزید خبریں